عدالتی اصلاحات کے ثمرات، ہائیکورٹ میں ایک ماہ میں 18 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
عدالتی اصلاحات کے ثمرات، ہائیکورٹ میں ایک ماہ میں 18 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے WhatsAppFacebookTwitter 0 9 December, 2025 سب نیوز
لاہور: (آئی پی ایس) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی عدالتی اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف نومبر 2025 میں لاہور ہائی کورٹ نے 18 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کر کے ایک نمایاں سنگِ میل عبور کیا ہے۔
اس عرصے میں عدالت میں 12 ہزار 457 نئے کیس دائر ہوئے جبکہ فیصلوں کی تعداد ان سے 5 ہزار 585 زیادہ رہی، وکلاء اور سائلین نے اس غیر معمولی کارکردگی کو خوش آئند اور عوام دوست اقدام قرار دیا ہے۔
ڈیجیٹل اصلاحات، کیس مینجمنٹ سسٹم اور عدالتی آٹومیشن کے باعث مقدمات نمٹانے کی رفتار میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کے مطابق بروقت انصاف اور شفافیت لاہور ہائی کورٹ کی اولین ترجیح ہے اور عدلیہ اس مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا کچی آبادی مسلم کالونی میں سی ڈی اے آپریشن روکنے کا حکم الیکشں کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ایبٹ آباد: مقتول ڈاکٹر سپرد خاک، مرکزی ملزمہ کی نشاندہی پر مزید 3 ملزمان گرفتار درگاہ شاہ عبدالطیف بھٹائی پر چورگیٹ توڑ کر چاندی لے اڑے قومی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل طاہر حسین مستعفیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔