لاہور ایئرپورٹ پر3 ماہ میں مختلف ایئرلائنز کے سیکڑوں مسافر آف لوڈ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
سعید احمد: بغیر مکمل سفری دستاویزات کے سفر کرنے والے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
لاہور ایئرپورٹ پر گزشتہ تین ماہ کے دوران مختلف ایئرلائنز کی جانب سے آف لوڈ کیے گئے مسافروں کی تفصیلی فہرست مرتب کر کے ایئرپورٹ حکام کے حوالے کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق,پی آئی اے کی مختلف پروازوں سے 536 مسافر آف لوڈ کیے گئے,تھائی ایئرویز کی لاہور سے روانہ ہونے والی پرواز سے 251 مسافر آف لوڈ ہوئے,تین ماہ کے دوران کولمبو ایئرویز کی پرواز سے 325 مسافر آف لوڈ کیے گئے,فلائی جناح کی پروازوں سے 350 سے زائد مسافر آف لوڈ ہوئے,تابان ایئر کی پروازوں سے 50 مسافر تین ماہ کے دوران آف لوڈ ہوئے,فلائی دبئی کی پروازوں سے 508 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا,ازبکستان ایئر کی پروازوں سے 78 مسافر آف لوڈ ہوئے۔
ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
ایئرپورٹ حکام کے مطابق زیادہ تر مسافروں کو نامکمل ویزا معلومات، سفری کلیئرنس میں خامیاں، دستاویزات کی عدم تصدیق یا انتظامیہ کی جانب سے درکار کاغذات کی عدم تکمیل کے باعث آف لوڈ کیا گیا۔
حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ بیرونِ ملک سفر سے قبل اپنی سفری دستاویزات، ویزا، پاسپورٹ اور دیگر ضروری کاغذات کی مکمل جانچ ضرور کر لیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔