9 مئی، فیض حمید براہراست ملوث، پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ تھا، حامد میر
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)
معروف صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید 9 مئی میں براہ راست ملوث تھے اور 8 مئی، 7 مئی اور 6 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں سے رابطے میں تھے اور گائیڈنس کے نام پر ورغلا رہے تھے۔معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ ‘میری ذاتی معلومات ہیں اور ہمیں اس وقت سے معلوم تھا جب فیض حمید کو گرفتار نہیں ہوئے تھے کہ فیض حمید پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور اس حوالے سے چند پی ٹی آئی رہنما تنگ تھے کیونکہ وہ ڈکٹیٹ کرتے تھے اور عمران خان کو شکایت بھی کی گئی پھر عمران خان گرفتار ہوئے تو اس کے بعد بھی ان کی مداخلت جاری رہی اور پھر یہ بھی گرفتار ہوئے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کے وکلا نے کرپشن کے کیس کو 15 ماہ تک کھینچا ہے تو 9 مئی کا کیس بھی ان کے وکلا 6 مہینے سے 8 مہینے تک کھینچ گئے تو کافی مشکلات پیدا ہوجائیں گی اور جو لوگ سمجھتے ہیں عمران خان فوری طور پر ایک اور مقدمے میں پھنس جائیں گے تو ہمیں ذرا انتظار کرنا چاہیے’۔انہوں نے کہا کہ ‘اگر یہی وکلا جو اس مقدمے جس میں ان کو سزا ہوئی ہے اور وہ اس کیس کو 15 ماہ تک کھینچا ہے تو آئندہ بھی یہی وکلا ہوتے ہیں تو یہ معاملہ اتنی جلدی نہیں نمٹے گا اور 6 سے 7 مہینے اس میں بھی گزر جائیں گے’۔
عمران خان کا مقدمہ فوجی عدالت جانے سے متعلق امکانات پر بات کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ‘جب فیض حمید کور کمانڈر پشاور تھے تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھنے کے مجاز نہیں تھے تاہم ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو ان کا وزیراعظم سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے اور ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم سے ہدایات لیتا ہے تو وہ جائز تھا لیکن جب کور کمانڈر پشاور بنایا گیا تو ایک طرف عمران خان کے ساتھ چینل کھولا ہوا تھا، دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ بھی چینل کھولا ہوا تھا اور میں نے ان شخصیات سے تصدیق بھی کی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘وزیراعظم شہباز شریف جب وزیراعظم بنے تو فیض حمید نے بطور کور کمانڈر پشاور ایک چینل کھولا اور ملاقات کی درخواست کی، ملنا چاہتے تھے اور ان کو اپنی وفاداری کا یقین دلا رہے تھے کہ میں آپ کا بڑا وفادار رہوں گا آپ مجھے آرمی چیف بنا دیں اور اس طرح کی باتیں یہ بطور کور کمانڈر پشاور عمران خان کے ساتھ بھی کرتے تھے’۔
معروف صحافی نے کہا کہ ‘اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف یہ انکار نہیں کرسکتے کہ جنرل فیض نے بطور کورکمانڈر ان سے براہ راست رابطہ کیا اور آرمی چیف بننے کے لیے لابنگ کی جو آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی تھی، اگر شہباز شریف ان کے خلاف گواہی دیں تو ان کی گواہی بڑی معتبر ہوگی اور میرا خیال جنرل فیض پھنس جائیں گے’۔
حامد میر نے کہا کہ ‘اب شہباز شریف صرف جنرل فیض کو نہیں پھنسانا انہوں نے تو ساتھ میں عمران خان کو بھی پھنسانا ہے تو اس کے لیے ہوسکتا ہے فیض حمید خود کوئی ایسا بیان دے دیں جس سے عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کو بھی وہ اپنے ساتھ ملزم بنالیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘مجھے تحریک انصاف کے ایک بہت سینئر رہنما نے بتایا کہ جنرل فیض 9 مئی کے معاملات میں 8 مئی، 7 مئی اور 6 مئی کو ہمارے ساتھ رابطہ کیا اور گائیڈنس کے نام پر ورغلاتے رہے، انہوں نے ہم سے غلط کام کروانے کی کوشش کی تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا، کچھ لوگوں نے فون کالز سننی بند کردی اور کچھ کال سنتے رہے’۔
حامد میر نے کہا کہ ‘مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل فیض براہ راست 9 مئی میں ملوث تھے ، جس کا پاکستان تحریک انصاف کو بہت نقصان ہوا لیکن اب وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے عمران خان کو پھنسا سکتے ہیں’۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حامد میر نے کہا کہ کور کمانڈر پشاور تحریک انصاف شہباز شریف براہ راست فیض حمید انہوں نے جنرل فیض تھے اور کے ساتھ
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک