لاہور میں اچھرہ جیولری مارکیٹ کی ایک دکان سے مبینہ طور پر 20 کلو سے زائد سونا غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متعدد جیولرز نے بتایا کہ انہوں نے اپنا سونا شیخ وسیم اختر کے پاس امانت کے طور پر رکھوایا تھا، لیکن وہ کئی روز سے دکان پر حاضر نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکوؤں کا بڑا وار، مسلم باغ کے قریب 24 کروڑ روپے کا سونا لوٹ لیا گیا

دکانداروں نے شیخ وسیم کے نہ آنے پر دکان کے تالے توڑ کر لاکر چیک کیا، جس کے بعد سونے کے غائب ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔ دکانداروں کے مطابق لاکر سے 20 کلو سے زیادہ سونا غائب تھا، جس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی جارہی ہے۔

’معاملہ لین دین سے متعلق ہے‘

متاثرہ دکانداروں نے واقعے کی درخواست تھانہ اچھرہ میں جمع کروا دی ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے مطابق معاملہ لین دین سے متعلق ہے، اور خبر میں سونا چوری یا غائب ہونے کا ذکر فی الحال حقائق کے منافی ہے۔

ترجمان کے مطابق ابھی تک ایک درخواست گزار سامنے آیا ہے، جو مزید قانونی کارروائی سے گریزاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونا سستا، لیکن شادی کا سیزن ہونے کے باوجود خریدار غائب کیوں؟

پولیس نے سونار محمد احمد صدیقی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا ہے۔ مقدمہ امانت میں خیانت کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق شیخ وسیم اختر نے دوکانداروں کا سونا لے کر کراچی روانہ ہو گئے اور پھر واپس نہیں آئے۔

ابتدائی طور پر 590 گرام سونا امانت میں رکھا گیا تھا، جبکہ مجموعی مالیت 2 کروڑ 25 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

کلوز سرکٹ فوٹیج منظر عام پر

مبینہ طور پر سونا لے جانے کی کلوز سرکٹ فوٹیج میں شیخ وسیم اختر کو ہاتھ میں شاپر بیگ اٹھائے پلازے سے نکلتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ فوٹیج میں یہ واقعہ 4 دسمبر سے قبل کا دکھائی دیتا ہے، جب وہ دکان کو تالے لگا کر غائب ہوئے۔

ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر ایس پی ماڈل ٹاؤن معاملے کی نگرانی کر رہی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ مزید حقائق سامنے آنے پر میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اچھرہ مارکیٹ پاکستان جیولرز سونا شیخ وسیم لاہور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اچھرہ مارکیٹ پاکستان جیولرز لاہور کے مطابق

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب