امریکی ریاست فلوریڈا میں ہائی وے پر چلتی گاڑی پر جہاز گرگیا، معجزانہ طورپر جانی نقصان سے محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست فلوریڈا کے ہائی وے پر ایک چھوٹا طیارہ انجن میں خرابی سامنے آنے کے بعد چلتی کار پر جاگرا حادثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل۔
عالمی خبر ایجنسی کے مطابق دل دہلادینے والا یہ واقعہ فلوریڈا کے ہائی وے پر رواں ہفتے پیش آیا۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلوریڈا ہائی وے پر حادثے کا شکار ہونیوالے بیچ کرافٹ 55 ہوائی جہاز میں ایک پائلٹ اور مسافر سوار تھے جس دوران طیارے کو انجن میں خرابی کا سامنا کرنا پڑا اور طیارے نے ہائی وے پر چلتی کار پر کریش لینڈنگ کردی۔
حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار پائلٹ اور مسافر دونوں محفوظ رہے تاہم کار میں موجود 57 سالہ خاتون کو معمولی چوٹیں آئیں جسے فوراً اسپتال منتقل کردیا گیا۔
حادثے کی ویڈیو میں جہاز کو ایک مصروف سڑک پر تیزی سے لینڈنگ کے دوران گاڑی کے اوپر ٹکراتے اور پھر ہائی وے پر گرتے دیکھا جاسکتا ہے اس دوران جہاز سے نکلنے والی چنگاریاں اور ملبہ بھی فضا میں اڑتے دیکھا گیا۔
فلوریڈا حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور ساتھ ہی انجن میں خرابی کی وجوہات بھی جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہائی وے پر
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔