کراچی: 3 خواتین کی لاشیں ملنے والے کیس کا ڈراپ سین، اقبال جرم کس نے کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
کراچی میں گلشن اقبال کے ایک فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور اس حوالے سے 2 ملزمان نے اقبال جرم بھی کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ماں نے اپنے 2 بچوں کو قتل کردیا، وجہ کیا بنی؟
یاد رہے کہ یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملی تھیں جبکہ ایک شخص نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی ملا تھا۔ مرنے والی تینوں خواتین ماں، بیٹی اور بہو تھیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق باپ اور بیٹے کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور دونوں نے تینوں خواتین کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات میں یہ اہم پہلو سامنے آیا ہے کہ لڑکے کی بیوی کو مبینہ طور پر جوس میں زہر ملائے جانے کا علم تھا جبکہ لڑکی کی ماں اور بہن کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ اس سے قبل باپ اور بیٹے کو پولیس حراست میں لیا گیا تھان تاہم اب باقاعدہ گرفتاری کرلی گئی ہے۔
زہریلا جوس کس نے پلایا؟پولیس ذرائع کے مطابق اگرچہ موت کا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا مگر یہ بات واضح نہیں ہو پا رہی تھی کہ تمام افراد نے خود زہریلا مشروب پیا تھا یا کسی ایک نے باقیوں کو پلایا تھا۔
مزید پڑھیے: کراچی: فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کا واقعہ، نئے لرزہ خیز انکشافات سامنے آگئے
تاہم نئے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ باپ اور بیٹے کے ساتھ ان کی بہو کو بھی زہر ملائے جانے کا علم تھا لیکن مرنے والی خاتون کی ماں اور بہن لاعلم تھیں۔ اس بنیاد پر پولیس کا ماننا ہے کہ دونوں خواتین کا قتل ہوا ہے لہٰذا اب کیس قتل کی دفعات کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
گھر سے 2 مبینہ خودکشی کے خط بھی ملےپولیس کے مطابق گھر سے دو خط بھی برآمد ہوئے ہیں جن میں لکھا ہے کہ وہ قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے خودکشی کر رہے ہیں۔ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ گھر میں موجود کچھ قیمتی اشیا فروخت کرکے تدفین کا انتظام کیا جائے اور بچ جانے والی رقم مدرسے کو دے دی جائے۔
مزید پڑھیں: کراچی: جائیداد کے لالچ میں ماں کو قتل کرنے والا بیٹا گرفتار
پولیس ذرائع نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا ہے اور رپورٹ بھی موصول ہو گئی ہے۔ باپ اور بیٹے کی تفتیش کے نتیجے میں کیس کے مزید پہلو سامنے آنے کی بھی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کراچی کراچی 3 خواتین قتل کراچی میں خواتین کا قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی کراچی 3 خواتین قتل کراچی میں خواتین کا قتل خواتین کی لاشیں باپ اور بیٹے کے مطابق
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔