پنجشیر میں مزاحمتی فورس کا حملہ، اہم شخصیت سمیت 17 طالبان ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
افغانستان کے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے صوبہ پنجشیر میں طالبان کے ایک اڈے پر رات گئے کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 17 طالبان اہلکاروں کو ہلاک اور 5 کو زخمی کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے لیے طالبان مخالف رہنماؤں کا ماسکو میں گٹھ جوڑ
دوسری جانب افغانستان میں طالبان رجیم کے نمائندوں کی جانب سے تاحال اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔
این آر ایف کے مطابق یہ آپریشن اتوار اور پیر کی درمیانی شب ضلع دارہ کی عبداللہ خیل وادی میں کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہلاک شدگان میں طالبان کی وزارت دفاع کی اسپیشل بریگیڈ کے ایک بٹالین کے چیف آف اسٹاف بھی شامل ہیں۔
مزاحمتی گروہ کے مطابق کارروائی میں طالبان کا پورا اڈہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ این آر ایف کے کسی جنگجو کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
مقامی ذرائع اور رسائی کی پابندیاںافغان میڈیا نے مقامی رہائشیوں کے حوالے سے بتایا کہ رات گئے علاقے میں ایک بڑا دھماکہ سنا گیا۔ دھماکے کے بعد طالبان اہلکاروں نے قریبی گھروں کی تلاشی بھی لی۔
مزید پڑھیے: افغانستان میں طالبان حکومت نے کھڑکیوں پر پابندی کیوں لگائی؟
طالبان کی جانب سے پنجشیر میں سخت پابندیوں کے باعث آزاد ذرائع سے معلومات کی تصدیق ممکن نہیں۔
این آر ایف کے مطابق حملہ 2 مراحل میں کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں ایک بارودی دھماکا کیا گیا اور اس کے بعد طالبان کے اڈے پر متعدد راکٹ داغے گئے۔
گروہ نے دعویٰ کیا کہ یہ اڈہ طالبان کی ایک بڑی اسٹریٹیجک پوزیشن تھی جہاں سے وہ آس پاس کی آبادی پر دباؤ ڈالتے تھے۔
افغان میڈیا کے مطابق حملے کا آغاز ایک تجارتی کوآڈ کاپٹر ڈرون سے کیے گئے دھماکے سے ہوا جس کے بعد مارٹر اور مشین گن فائر بھی کیا گیا۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں خودکش دھماکا، 5 افراد جاں بحق، مزید ہلاکتوں کا خدشہ
مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 40 تک بتائی ہے تاہم اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ڈرون کے بڑھتے ہوئے استعمال کی اطلاعاتافغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق این آر ایف نے حالیہ مہینوں میں تجارتی ڈرونز میں ترمیم کرکے ان کا استعمال بڑھا دیا ہے جس سے وہ بغیر کسی جانی نقصان کے طالبان یونٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
طالبان فورسز کے پاس زیادہ تر ہلکا اسلحہ اور بنیادی جیمنگ سسٹم موجود ہیں جو پنجشیر کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں دہشتگردی میں شدت، ٹی ٹی پی افغانستان سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے
ابتدائی معلومات کے مطابق حملے میں ایک ہی ڈرون نے طالبان اہلکاروں کے اس گروہ کے قریب دھماکا کیا جو کلئیرنس آپریشن کی تیاری میں تھا۔
پنجشیر میں مزاحمت کی تاریخ اور موجودہ صورتحالمقامی اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد طالبان کی اضافی نفری راتوں رات پنجشیر منتقل کی گئی تاہم طالبان قیادت نے اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
پنجشیر طویل عرصے سے طالبان کے خلاف مزاحمت کا گڑھ رہا ہے۔ این آر ایف کی قیادت احمد مسعود کر رہے ہیں جو سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے ہیں۔
یہ گروہ زیادہ تر سابق افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز پر مشتمل ہے۔
این آر ایف نے سنہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پنجشیر، کابل اور دیگر صوبوں میں سیکڑوں حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
مزاحمت کا ایک اور گروہ، افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) بھی سرگرم ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں، اسلام آباد اور وانا حملوں کا ایسا جواب دیں گے کہ دنیا دیکھے گی، خواجہ آصف
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ طالبان نے پنجشیر میں متعدد افراد کو مزاحمتی گروہوں سے تعلق کے شبے میں حراست، تشدد اور قتل کیا ہے تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان میں میں طالبان آر ایف طالبان کے طالبان کی کے مطابق کیا گیا کے بعد
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔