Jasarat News:
2026-06-03@01:00:07 GMT

کراچی پر کون قابض، کون خدمت گار؟ حقائق بولنے لگے

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251205-03-1

کراچی اس وقت 25 ٹاؤن میں تقسیم ہے اور ان کی کارکردگی کا فرق اس حد تک واضح ہو چکا ہے کہ شہری خود اس پر بحث کرنے پر مجبور ہیں۔ ان 25 ٹاؤنوں میں جماعت ِ اسلامی کے پاس 9 ٹاؤن، پیپلز پارٹی کے پاس 13 اور تحریک انصاف کے پاس 3 ٹاؤن ہیں۔ اگر ٹاؤنوں کی کارکردگی پر غیر جانبداری سے نظر ڈالی جائے تو گلشن اقبال ٹاؤن، جناح ٹاؤن، لیاقت آباد ٹاؤن، ناظم آباد ٹاؤن، لانڈھی ٹاؤن، گلبرگ ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور نیو کراچی ٹاؤن نے اپنے انتہائی محدود وسائل میں جو ترقیاتی کام کیے ہیں وہ کسی بھی بڑے ادارے کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔ یہاں واقعی عوامی خدمت، صفائی، نظم و ضبط، نگرانی اور رات دن مسلسل عملی کام دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ شہر کے دیگر 16 ٹاؤنز بدانتظامی، گندگی، کھلے مین ہولز، اُبلتے گٹر اور تباہ شدہ سڑکوں کی ایک جیتی جاگتی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
کراچی کی بارشوں کا المیہ بھی کوئی نیا نہیں۔ جب شہر میں ٹاؤن نہیں تھے، نہ بلدیاتی ادارے تھے، تب بھی بارش کے بعد بچے نالوں میں گر کر جان سے جاتے تھے، نوجوان کرنٹ لگنے سے مر جاتے تھے اور خواتین اندھے گٹروں میں گر کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی تھیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج بھی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ نہ نالے بدلے، نہ نظام بدلا، نہ ذمے دار اداروں کی بے حسی کم ہوئی۔ دراصل یہ ساری ہلاکتیں، ڈوبنے کے واقعات، گٹر میں گرنے کے حادثات اور کرنٹ لگنے سے اموات براہ راست ٹاؤن چیئرمین یا یو سی چیئرمین کی نہیں بلکہ سندھ کے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی مجرمانہ نااہلی کا نتیجہ ہیں۔
گٹر کا ڈھکن لگانا، نالوں کی باقاعدہ صفائی، سیوریج لائنوں کی مرمت، برساتی پانی کی نکاسی، مین ہولز کی حفاظت، پانی اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنانا یہ سب واٹر کارپوریشن کی ذمے داری ہے، لیکن گزشتہ 17 سال سے یہ ادارہ کراچی کے لیے بوجھ سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوا۔ شہر بھر میں کھلے مین ہول موت کے کنویں بنے کھڑے ہیں، سیوریج لائنیں برسوں سے ٹوٹی ہوئی ہیں، سڑکوں پر جمع گندا پانی بدبو، بیماریوں اور حادثات کا باعث بنتا ہے۔ بعض علاقوں میں 20 سے 25 دن تک پانی کی ایک بوند تک نہیں آتی جبکہ لوگ مجبوراً ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں نلکے سے پانی آنا چاہیے تھا وہاں سیوریج کا کالا بدبودار پانی گھروں کی لائنوں تک پہنچ رہا ہے۔ اس سے بڑی نااہلی کیا ہو سکتی ہے کہ شہر کے لاکھوں گھرانے بنیادی انسانی ضرورت صاف پانی تک سے محروم ہوں؟
سب سے خطرناک حقیقت یہ ہے کہ اس تباہ حال ادارے کی سربراہی اس وقت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے ترجمان اور اسٹیبلشمنٹ کے مسلط کردہ میئر مرتضیٰ وہاب کے پاس ہے۔ 17 سال سے پیپلز پارٹی کراچی کے ہر بڑے ادارے پر قابض ہے اور انہی 17 سال میں یہ شہر روشنیوں سے اندھیروں میں بدل گیا۔ فنڈ آتے رہے، بجٹ جاری ہوتا رہا، مگر شہر کا انفرا اسٹرکچر ہر سال پہلے سے زیادہ برباد ہوتا گیا۔ یہ بات اب کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ جب تک واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اسی طرح کی نااہلی اور کرپشن کی بنیاد پر چلتے رہیں گے، شہر کے حالات کبھی بہتر نہیں ہو سکتے۔
صفائی کا اصل کام سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے پاس ہے، مگر اس ادارے کی بدانتظامی اور کرپشن کا یہ عالم ہے کہ آج ٹاؤن اپنے محدود وسائل میں وہ تمام کام خود کر رہے ہیں جو اصل میں صوبائی اداروں کو کرنے تھے۔ کہیں ٹاؤن کی ٹیمیں جھاڑو لگا رہی ہیں، کہیں کچرا اٹھا رہی ہیں، کہیں سڑکیں دھو رہی ہیں، کہیں نالے کھول رہی ہیں، گویا شہر کے اصل ذمے دار سوئے ہوئے ہیں اور کام وہ لوگ کر رہے ہیں جن کے پاس نہ وسائل ہیں، نہ اختیار، صرف عوام کی خدمت کا جذبہ ہے۔
ایسے حالات میں جماعت ِ اسلامی کے 9 ٹاؤن کراچی کے لیے امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔ جہاں صفائی کے کام کسی ’’سی ایم کی ہدایت‘‘ کے بغیر ہوتے ہیں، جہاں گلیوں کی نگرانی روز ہوتی ہے، شہریوں کی شکایات پر جلد سے جلد ردعمل دیا جاتا ہے، جہاں ترقیاتی کاموں میں شفافیت بھی ہے اور تسلسل بھی۔ بجٹ کم ہے، وسائل محدود ہیں مگر کام لامحدود ہیں کیونکہ نیت صاف ہے۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا کراچی کے عوام پر مزید اسٹیبلشمنٹ کی نوازش سے پیپلز پارٹی مسلط رہے گی اور اسی طرح تباہ کن ڈھانچے کو کراچی کے عوام برداشت کریں گے؟ کیا پیپلز پارٹی شہر کراچی سے مزید دشمنی نبھاتی رہے گی؟ کیا شہر کراچی کے عوام مزید اس سیاست کو سہتے رہیں گے جس نے نالوں، گٹروں اور بجلی کے کرنٹ کے رحم و کرم پر انہیں چھوڑ دیا؟ کیا شہری انتظامیہ اور بااثر حلقے مزید اسی طرح پیپلز پارٹی کو کراچی کے اداروں پر مسلط رکھتے رہیں گے؟
وقت آگیا ہے کہ کراچی اپنے دشمنوں اور محسنوں میں فرق کرے۔ جو ٹاؤن واقعی کام کر رہے ہیں انہیں سراہا جائے، اور جو ادارے شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں انہیں کٹہرے میں لانا اب محض ضرورت نہیں بلکہ انسانی جانوں کا سوال ہے۔

دانش عابد.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کراچی کے رہے ہیں رہی ہیں کے پاس شہر کے

پڑھیں:

پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار

کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے