کراچی: کیش وین سے 20 کروڑ سے زائد رقم لوٹنے والا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
کراچی:
سندھ رینجرز نے پہلوان گوٹھ میں کارروائی کرتے ہوئے نجی کمپنی کی کیش وین لوٹنے کی واردات میں ملوث ایک ملزم کو گرفتارکرلیا۔
گرفتار ملزم نے 2021 میں اپنے چھوٹے بھائی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ آئی آئی چند ریگر روڈ پر نجی کمپنی کی کیش وین سے 20 کروڑ 50 لاکھ کی رقم لوٹی تھی۔
ترجمان کے مطابق سندھ رینجرزنے خفیہ معلومات کی بنیاد پر پہلوان گوٹھ کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی اسلحہ کی خرید و فروخت، ڈکیتی اوردیگرمتعدد وارداتوں میں ملوث ملزم عبدالصمد ولد جُمن شاہ کو گرفتار کراسکے قبضے سے ایک 30 بور پسٹل بمعہ ایمونیشن بغیر لائسنس، چوری شدہ موٹر سائیکل اور موبائل فون برآمد کر لیا۔
گرفتار ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ 2021 میں اپنے چھوٹے بھائی حنیف اللہ عرف سراج خان اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ آئی آئی چندریگر روڈ پر نجی کمپنی کی کیش وین کی ڈکیتی میں بھی ملوث ہے جس میں تقریباً 20 کروڑ 50 لاکھ کی رقم لوٹی گئی تھی۔
گرفتارملزم نے مزید انکشاف کیا کہ وہ مختلف ڈکیتوں، منشیات فروشوں اور کار لفٹرگروہوں کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے اور ان کو وارداتوں کے لیے غیرقانونی اسلحہ فروخت کرتا ہے۔ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
گرفتار ملزم کو بمعہ اسلحہ و ایمونیشن اور مسروقہ سامان مزید قانونی کارروائی کے لئے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیش وین
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک