کراچی ای چالان کو 30 روز مکمل، 93 ہزار سے زائد چالان ہوگئے، انکی قیمت کیا رہی؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ای چالان سسٹم کے نفاذ کو 30 دن مکمل ہو گئے ہیں، اور اس دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 93 ہزار سے زائد چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کیمروں کی مدد سے سب سے زیادہ 57 ہزار 541 چالان سیٹ بیلٹ نہ لگانے پر کیے گئے، جبکہ ہیلمٹ نہ پہننے پر 22 ہزار 227 موٹر سائیکل سواروں کو چالان ہوا۔
ڈمپر، ٹریلر اور واٹر ٹینکر میں نصب ٹریکرز کے ذریعے تیز رفتاری کے 1 ہزار 188 چالان جاری ہوئے، جب کہ دیگر گاڑیوں کی تیز رفتاری کے 2 ہزار 699 چالان سامنے آئے۔
ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر 3 ہزار 102 چالان کیے گئے۔
اس کے علاوہ فینسی نمبر پلیٹ رکھنے والی گاڑیوں کے 1 ہزار 278 اور رنگین شیشوں والی گاڑیوں کے 1 ہزار 178 چالان ہوئے۔
اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی پر 611 جبکہ رانگ وے پر گاڑی چلانے پر 426 چالان جاری کیے گئے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر 57 کروڑ 54 لاکھ 10 ہزار روپے، ہیلمٹ نہ پہننے پر 11 کروڑ 11 لاکھ 35 ہزار روپے اور رنگین شیشوں والی گاڑیوں پر 2 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔