کراچی میں ای چالان کے نفاذ کے 30 روز مکمل، اعداد و شمار آگئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی میں ای چالان کے نفاذ کے 30 روز مکمل ہوگئے، اب تک شہر قائد میں کتنے افراد کا چالان کیا جاچکا ہے؟ اعداد و شمار آگئے ہیں۔
کراچی میں ای چالان کے نفاذ کا ایک ماہ مکمل ہوگیا، اب تک ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر 93 ہزار سے زائد چالان کیے جاچکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کیمروں کی مدد سے سب سے زیادہ 57 ہزار 541 چالان سیٹ بیلٹ نہ لگانے پر کئے گئے۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق 22 ہزار 227 موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان کئے گئے۔
اس حوالے سے رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ڈمپر ٹریلر اور واٹر ٹینکر میں نصب ٹریکر کی مدد سے تیز رفتاری پر 1 ہزار 188 چالان ہوئے ہیں۔
تیز رفتاری پر دیگر گاڑیوں کے جو چالان کئے گئے اُن کی تعداد 2699 ہے جبکہ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر 3 ہزار 102 چالان کئے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فینسی نمبر پلیٹ نصب ہونے پر 1 ہزار 278 جبکہ رنگین شیشوں کی حامل 1178 گاڑیوں کے چالان کئے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی پر611 اوررانگ وے گاڑی چلانے پر 426 چالان جاری کئے گئے ہیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر 57 کروڑ 54 لاکھ 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ہیلمٹ نہ پہننے پر بائیک سواروں کو 11 کروڑ 11 لاکھ 35 ہزار روپے جرمانہ ہوا جبکہ رنگین شیشے والی گاڑیوں کو 2 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چالان کئے گئے کے مطابق
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔