کراچی میں ہیلمٹ قوانین مزید سخت، موٹر سائیکل سواروں کے لیے نئی شرط عائد
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
کراچی میں ٹریفک قوانین کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے موٹر سائیکل سواروں کے بعد اب ان کے پیچھے بیٹھنے والے افراد پر بھی سخت نگرانی شروع کردی گئی ہے۔
ٹریفک پولیس کے اعلامیے کے مطابق اگر موٹر سائیکل پر بیٹھی پچھلی سواری نے ہیلمٹ نہ پہنا تو اس پر بھی ای چالان جاری کیا جائے گا۔
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے واضح کیا کہ موٹر سائیکل پر بیٹھے دونوں افراد کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہے۔
خلاف ورزی کی صورت میں موٹرسائیکلسٹ اور اس کے عقب میں بیٹھے شخص دونوں کا ای چالان ہوگا۔
انہوں نے آن لائن رائیڈرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ اضافی ہیلمٹ ضرور رکھیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ 500 نہیں بلکہ 5 ہزار روپے ہوگا۔
ٹریفک حکام نے شہریوں سے محفوظ سفر کے لیے لازمی طور پر ہیلمٹ استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آن لائن رائیڈرز ای چالان قوانین کراچی ہیلمٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آن لائن رائیڈرز ای چالان قوانین کراچی ہیلمٹ موٹر سائیکل کے لیے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔