راولپنڈی میں ای چالان کا آغاز ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
سٹی 42 : راولپنڈی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان جاری کرنے کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
راولپنڈی میں سیف سٹی کیمروں کو باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا جن کی مدد سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کیے جا رہے ہیں۔ شہر میں 359 مقامات پر 2 ہزار سے زائد کیمرے نصب کر دیے گئے، سیف سٹی کیمروں سے موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی۔
ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ، سگنل وائلیشن سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر ای چالان جاری کیے جا رہے ہیں، جرمانہ تصاویر اور کوڈ کے ساتھ مالک کو گھر کے پتے پر موصول ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف سے گورنر خیبرپختونخواہ کی ملاقات
سی ٹی او فرحان اسلم نے اس حوالے سے بتایا کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ٹریفک انتظامات میں مزید بہتری آئے گی، E-Challan سسٹم سے وارڈنز کی زیادہ توجہ ٹریفک کی روانی پر مرکوز ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔