راولپنڈی:

وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ای چالان سسٹم آج سے فعال ہوگیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سیف سٹی پروجیکٹ کے کیمروں سے خودکار ای چالان کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت خلاف ورزی کی تصاویر اور کوڈ کے ساتھ ای چالان گاڑی کے مالک کو موصول ہوگا اور جرمانہ مقررہ وقت پر جمع کرانا لازم ہوگا۔

ای چالاننگ سسٹم کو سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کیا گیا ہے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر خودکار سی سی ٹی وی کیمروں سے چالان جاری کیے جائیں گے۔ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر خودکار جرمانہ جب کہ بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل، لین وائلیشن اور دوران ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال پر بھی فوری ای چالان جاری ہوگا۔

اسی طرح غیرنمونہ اور غیرقانونی نمبر پلیٹ پر بھی خودکار کارروائی کی جائے گی اور خلاف ورزی ریکارڈ ہوتے ہی چالان جاری ہو کر گھر کے پتے پر بھیج دیا جائے گا۔

راولپنڈی میں سیف سٹی کے تحت 359 مقامات پر 2000 سے زائد کیمرے نصب ہیں جب کہ داخلی و خارجی راستوں پر 15 کیمرے لگائے گئے ہیں۔ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے عوامی مقامات کی مانیٹرنگ مؤثر انداز میں کی جارہی ہے اور ٹریفک مینجمنٹ، ٹریفک پولیس کی کارکردگی اور اہم سڑکوں کی نگرانی بھی نظام کا حصہ ہے۔

حکام کے مطابق سرویلنس سسٹم جرائم اور واقعات کی بروقت رپورٹنگ میں بھی مددگار ثابت ہورہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی سیف سٹی

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار