امریکا نے وینزویلا کے صدر کے گروپ کو دہشت گرد قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی حکومت نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے منسلک گروپ کارٹیل ڈی لاس سولس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) قرار دے دیا ہے جس سے امریکا کے پاس اس گروپ کے خلاف وسیع قانونی اور عسکری اقدامات کرنے کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی دفاعی سیکریٹری پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا کہ اس اقدام سے امریکا کے پاس گروپ کے خلاف متعدد نئے اختیارات آئیں گے، مادورو کو امریکا ایک جائز رہنما کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور اسے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث قرار دیتا ہے حالانکہ مادورو نے ان الزامات کو بار بار مسترد کیا ہے۔
خیال رہےکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے آغاز میں اس اقدام کا اعلان کیا تھا، اس اقدام کے تحت گروپ کو کسی بھی مادی تعاون کی فراہمی امریکی قانون کے مطابق جرم بن جائے گی ، کارٹیل ڈی لاس سولس وینزویلا کے دیگر کرمنل نیٹ ورکس جیسے Tren de Aragua کے ساتھ مل کر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے، جس کی قیادت مادورو خود کر رہا ہے۔
واضح رہےکہ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ کارٹیل ڈی لاس سولس وینزویلا میں مادورو کے غیر قانونی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کی قیادت میں کام کر رہا ہے، جنہوں نے فوج، انٹیلی جنس، قانون ساز اور عدلیہ کو کرپٹ کر دیا ہے۔
امریکا کی جانب سے یہ اقدام وینزویلا میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ اور ڈرگ ٹریفک کے خلاف سخت موقف کی نشاندہی کرتا ہے، امریکی فوج نے اب تک 21 حملے ایسے بحری جہازوں پر کیے ہیں جو مبینہ طور پر منشیات لے کر جا رہے تھے، جن میں 83 افراد ہلاک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔