ماسکو (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ماسکو میں چین کے وزیراعظم لی کیانگ سے ملاقات کی۔ پاکستان اور چین نے سٹرٹیجک شراکت داری کی توثیق کی۔ ایس سی او فریم ورک کے تحت تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ دو طرفہ تذویراتی شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور شنگھائی سپرٹ کو علاقائی استحکام کیلئے اہم قرار دیا۔  نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ماسکو میں ایس سی او سربراہ وفد کے ساتھ روسی صدر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ہم خطے میں اقتصادی تعاون چاہتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات ہوئی جس میں دیگر ممالک کے سربراہان بھی موجود تھے۔ ملاقات میں روسی صدر نے علاقائی اقتصادی تنظیم کو مزید فروغ دینے اور ایس سی او پلیٹ فارم کے تحت تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او علاقائی رابطہ کاری، استحکام اور باہمی مفادات کیلئے اہمیت کی حامل ہے۔  قبل ازیں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے ایس سی او فریم ورک میں پاکستان کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے علاقائی شراکت داری کے اہم ستونوں کے طور پر تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور انسانی تعاون پر زور دیا۔ منگل کو دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے تجارت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل ترقی کے ذریعے زیادہ اقتصادی انضمام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے علاقائی آفات کے مقابلے کی تیاری پر تعاون کو بڑھانے پر بھی زور دیا اور شنگھائی تعاون تنظیم کے شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ فرضی مشقوں کے انعقاد کے لیے پاکستان کی تیاری کا اظہار کیا۔ نائب وزیراعظم نے ایس سی او کو جدید بنانے اور انگریزی کو ورکنگ لینگویج کے طور پر متعارف کروا کر اس کی رسائی کو بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے مشترکہ اہداف کے ساتھ منسلک پروجیکٹ پر مبنی اقدامات میں مبصر اور شراکت دار ریاستوں کی گہری شمولیت کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے مالیاتی ادارے اور ٹولز کے قیام کے ساتھ ساتھ تعلیمی روابط کو وسعت دے کر انسانی سرمائے کی ترقی کی تجویز بھی دی۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے ٹھوس اقتصادی رابطوں کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے غربت اور موسمیاتی ریزیلینس سمیت سماجی و اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے پر زور دیا اور کہا کہ پائیدار ترقی امن اور استحکام پر منحصر  ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایس سی او سربراہان حکومت کونسل اجلاس سے خطاب میں کہا ایس سی او علاقائی سطح پر موثر کردار ادا کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان نے ایک ٹیکنالوجی پر مبنی فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام تیار کیا ہے۔ تجارت اور معیشت کے فروغ کیلئے مالیاتی آلات کو فعال بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شنگھائی تعاون تنظیم اسحاق ڈار نے شراکت داری پر زور دیا ایس سی او انہوں نے کے ساتھ

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری