کیا ایم کیو ایم مشرف دور حکومت سے زیادہ طاقت ور ہو گئی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) جو بنیادی طور پر کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندگی کرتی ہے، اپنی سیاسی تاریخ میں اندرونی تقسیم اور بدلتے ہوئے سیاسی اتحادوں کی وجہ سے ہمیشہ مختلف اور بعض اوقات متضاد بیانات دینے کی شہرت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھٹو کی پیپلز پارٹی کس ہاتھ میں ہے جو نئے صوبے بنانے کو غداری کہتی ہے؟ خالد مقبول صدیقی
حالیہ عرصے میں جو بیانات اور سیاسی رجحانات سامنے آئے ہیں، وہ اس کی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے بیانات کا سب سے نمایاں پہلو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سندھ حکومت پر شدید تنقید اور شہری سندھ کے حقوق کا مطالبہ ہے۔
وفاق میں مصالحت اور سندھ میں محاذ آرائی دراصل سیاسی بقاایم کیو ایم کی وفاق میں مصالحت اور سندھ میں محاذ آرائی دراصل سیاسی بقا اور انتخابی مجبوری کا نتیجہ ہیں۔ یہ بیانات اس کی بنیادی ووٹر بیس (مہاجر آبادی) کو متحرک رکھنے کے لیے ضروری ہیں، جو واقعی شہری مسائل سے دوچار ہے۔
یہ مطالبہ ایک پریشر ٹیکٹک ہے جو وفاقی حکومت یا پیپلز پارٹی کو مذاکرات کی میز پر لانے اور شہری سندھ کے لیے زیادہ حصہ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایم کیو ایم جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے دور سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئی ہے جو اپنے مطالبات منوا لے گی؟
کراچی کو صوبہ بنانا ہوتا تو جنرل پرویز مشرف کے دور میں بن جاتاسینیئر صحافی لیاقت علی رانا کا کہنا ہے کہ میرے صحافت کے 30 سال ہو چکے ہیں اور معاملہ اس سے بھی پہلے کا ہے۔ اچانک آواز اٹھتی ہے کہ کراچی کو صوبہ بنایا جائے یا شہری علاقوں کو سندھ سے الگ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل نے نئے صوبے بنانے کی بات کی، ایم کیو ایم اس کی حمایت کرتی ہے، مصطفیٰ کمال
ان کا کہنا ہے کہ اگر کراچی کو صوبہ بنانا ہوتا تو جنرل پرویز مشرف کے دور میں بن جاتا جب ایم کیو ایم بھی مضبوط تھی۔
یہ صرف سیاسی نعرہ ہےلیاقت علی رانا کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی نعرہ ہے جس کا نہ صرف ایم کیو ایم نے فائدہ اٹھایا بلکہ اس سے پیپلز پارٹی کو بھی فائدہ پہنچا کیوں کہ پیپلز پارٹی کی شہری سندھ کو الگ کرنے کی مخالفت سے سندھی ووٹ بینک ان کے قریب ہوا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ کراچی میں اردو بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن آج صورتِ حال مختلف ہے۔
حقیقت ہے کہ اہل کراچی مایوسی کا شکار ہیںلیاقت علی رانا کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اہلِ کراچی مایوسی کا شکار ہیں، جس وجہ سے وہ انتظامی طور الگ صوبے کی خواہش رکھتے ہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ کے آفاق احمد تو پہلے دن سے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے خواہش مند رہے، وہ سمجھتے ہیں کراچی کے مسائل کا حل الگ صوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم میں اختیارات کی جنگ، فاروق ستار کے جانے کے بعد مصطفیٰ کمال کی اجلاس میں شرکت
لیاقت علی رانا کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار ہوں، نعمت اللہ خان ہوں یا وسیم اختر ہوں، انہیں فنڈز کی عدم دستیابی کی شکایات رہی ہیں۔ کراچی میں مسائل ہیں اور پیپلز پارٹی پر الزام یہ لگتا ہے کہ وہ کراچی کا فنڈ کراچی میں نہیں لگاتی۔
کراچی سندھ سے الگ نہیں ہوسکتا، پیپلز پارٹی کا واضح مؤقفسینیئر صحافی محمد فاروق سمیع کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر ایم کیو ایم رہنماؤں کی جانب سے نئے صوبے کے لیے بیانات سامنے آرہے ہیں اور ان کی جانب سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم میں نئے صوبوں کے حوالے سے بات ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے کہ کراچی سندھ سے الگ نہیں ہوسکتا۔ اگر اس معاملے میں کوئی پیش رفت ہوئی تو پیپلز پارٹی سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی، پیپلز پارٹی ذرائع بتاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی تیار ہے اور قوم پرست جماعتوں کے ساتھ لائحہ عمل تیار کرچکی ہے۔
ایم کیو ایم دھڑوں میں تقسیمفاروق سمیع کے مطابق اگر بات کی جائے ایم کیو ایم کی تو ایم کیو ایم پاکستان اس وقت دو دھڑوں میں تقسیم ہے، ایک طرف خالد مقبول صدیقی گروپ اور دوسری جانب مصطفی کمال گروپ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کو چلانے کے لیے ایم کیو ایم کے علاوہ ملک کے پاس کوئی آپشن نہیں، خالد مقبول صدیقی
ان کا کہنا ہے کہ نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ملیر میں ہونے والا جلسہ اس وجہ سے ایم کیو ایم کو روکنا پڑا کہ کہیں 2 گروپوں میں تصادم نہ ہو جائے۔ کئی جگہوں پر کارکنوں کے بیچ تصادم کی اطلاعات بھی ملیں، تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم اگر نئے صوبے کی بات کرتی ہے تو اس کی بات میں کتنا وزن ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایم کیو ایم پاکستان پرویز مشرف پیپلز پارٹی سندھ کراچی محاذ آرائی نئے صوبے وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم پاکستان پرویز مشرف پیپلز پارٹی کراچی وفاقی حکومت خالد مقبول صدیقی لیاقت علی رانا کا کہنا ہے کہ یہ بھی پڑھیں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم پرویز مشرف کراچی کو کے لیے ایم کی
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔