WE News:
2026-06-02@22:44:14 GMT

ایوان بلوچستان میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے مخالف کون؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

ایوان بلوچستان میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے مخالف کون؟

بلوچستان کی سیاست ایک بار پھر شدید بے یقینی کا شکار ہے اور وزیر اعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی کی کارکردگی، طرز حکمرانی اور فیصلوں پر نہ صرف حکومت کے اندر بلکہ اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن میں بھی ناراضی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کا کوئی معاہدہ نہیں دیکھا، رہنما ن لیگ سلیم کھوسہ

گزشتہ چند دنوں میں سامنے آنے والی سیاسی سرگرمیوں نے اس سوال کو تقویت دی ہے کہ کیا بلوچستان میں ایک اور سیاسی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے؟

پیپلز پارٹی میں بڑھتی ناراضی

وزیر اعلیٰ بگٹی کے خلاف سب سے نمایاں اختلافات پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر ابھرے ہیں۔

پارلیمانی سیکریٹری میر لیاقت علی لہڑی نے سب سے پہلے کھل کر وزیراعلیٰ کے طرز حکمرانی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں ایسا وزیراعلیٰ ہو جو عوامی مفاد میں فیصلے کرے اور صوبے کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے زیادہ تر اراکین تبدیلی چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پختون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے مستقبل کو کتنا خطرہ ہے؟

صوبائی وزیر علی حسن زہری نے بھی اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا اور بتایا کہ پیپلز پارٹی کے کئی اراکین موجودہ حکومتی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں۔

پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر سینیٹر سردار عمر گورگیج نے بھی اختلافات کے وجود کا بالواسطہ اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے 3 سے 4 ایم پی ایز کو تحفظات ہیں مگر یہ گھر کے اختلافات ہیں جو گھر کے اندر ہی حل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں تبدیلی کی ہوا، سرفراز بگٹی کتنے مضبوط ہیں؟

تاہم ذرائع کے مطابق اصل مسائل ترقیاتی فنڈز کی غیر مساوی تقسیم، اہم فیصلوں میں مشاورت کی کمی اور وزیراعلیٰ کے مرکزیت پسند طرز حکمرانی ہیں جنہوں نے پارٹی میں بے چینی بڑھا دی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی کھلی تنقید اور سخت مؤقف

صورتحال مزید سنگین اس وقت ہوئی جب مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سینیٹر میر دوستین ڈومکی نے میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بیڈ گورننس کے باعث سرفراز بگٹی کو ہٹانے کا فیصلہ ہو چکا ہے پیپلز پارٹی نئے وزیراعلیٰ کے نام پر مشاورت کر رہی ہے۔

دوستین ڈومکی سابق نگراں وزیراعلیٰ علی مردان ڈومکی کے بھائی ہیں اور صوبائی سیاست میں اہم اثر رکھتے ہیں اس لیے ان کا یہ بیان معمولی نہیں سمجھا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کی سیاست میں ہلچل، کیا وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی تبدیلی قریب ہے؟

مسلم لیگ (ن) کے رکنِ اسمبلی نوابزادہ چنگیز مری نے بھی کھل کر وزیراعلیٰ سے ناراضی ظاہر کی اور اعلان کیا کہ اگر بگٹی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آتی ہے تو میں سب سے پہلے ووٹ دوں گا۔

پیپلز پارٹی کی وضاحتیں اور زمینی حقائق میں تضاد

اگرچہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صادق عمرانی اور صوبائی صدر عمر گورگیج مسلسل یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کی کوئی بات نہیں، یہ سب افواہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک کے پسماندہ ترین علاقوں کی فہرست جاری، بلوچستان کے کتنے اضلاع شامل ہیں؟

لیکن دوسری جانب حقائق کچھ اور منظرنامہ پیش کر رہے ہیں۔ اسمبلی کے اندر ناراض اراکین کا حلقہ دن بدن وسیع ہو رہا ہے جبکہ اتحادی جماعتوں کے رہنما کھل کر میڈیا میں اپنے تحفظات بیان کر رہے ہیں۔

کیا بلوچستان میں نئی سیاسی تبدیلی نزدیک ہے؟

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ناراض گروپ باقاعدہ منظم ہو گیا تو اگلے چند ہفتے حکومت کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

بلوچستان کی سیاست پہلے ہی غیر یقینی اور اندرونی اختلافات کا شکار رہی ہے اور اتحادی حکومتیں اکثر ایسے ہی دباؤ میں کمزور پڑتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ بلوچستان کا گوادر میں پانی کے بحران کا نوٹس، ٹینکرز کے ذریعے سپلائی کا حکم

موجودہ حالات جن میں اتحادی جماعتوں کی بے چینی، ن لیگ کی سخت تنقید، وزرا اور ایم پی ایز کے کھلے بیانات سب اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی پر سیاسی دباؤ اپنے عروج پر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان بلوچستان اسمبلی پیپلز پارٹی سرفراز بگٹی کی مخالفت وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان اسمبلی پیپلز پارٹی وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی بلوچستان میں سرفراز بگٹی پیپلز پارٹی بلوچستان کی پارٹی کے کے اندر رہے ہیں کہا کہ

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا