اسلام آباد ہائیکورٹ کی ممکنہ منتقلی‘ بھرپور مزاحمت کریں گے: وکلاء
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ کی ممکنہ منتقلی سے متعلق خبروں پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدلیہ کی کسی بھی عمارت یا ادارے کو بغیر مشاورت منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ ہائی کورٹ بار کے صدر واجد علی گیلانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1960 میں اسلام آباد دارالحکومت بنا تو میلوڈی میں ایک ہی عدالت کام کرتی تھی، مگر آج اسلام آباد میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور سیشن کورٹس کے ساتھ سو سے زائد ڈسٹرکٹ ججز عوام کو انصاف فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اور عوام کے ٹیکسوں سے تعمیر ہونے والی عمارتیں کسی بھی ایڈمنسٹریٹو فیصلے کی بجائے آئینی تقاضوں کے تحت استعمال ہونی چاہئیں۔ بار صدر نے وفاقی آئینی عدالت کی موجودہ عمارت کے حوالے سے کہا کہ اسے فی الحال ہائی کورٹ کی جانب سے عارضی جگہ فراہم کی گئی ہے، مگر حتمی طور پر اسے سپریم کورٹ کی عمارت میں منتقل ہونا ہے۔ ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری منظور احمد ججہ نے کہا کہ ہائیکورٹ کی ممکنہ منتقلی کی بات ایک نجی چینل کی خبر سے نکلی۔ اگر کبھی ایسا فیصلہ کیا گیا تو وکلا برادری سخت مزاحمت کرے گی۔ دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو بھرپور احتجاج ہو گا۔ نائب صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار افتخار باجوہ نے اعلان کیا کہ اگر ہائی کورٹ کی عمارت کو کہیں اور منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو وکلا شاہراہ دستور پر احتجاج کریں گے۔ دریں اثناء اسلام آباد ہائی کورٹ کی منتقلی کے معاملہ پر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی کا اجلاس زیرصدارت چوہدری نعیم علی گوجر‘ جنرل سیکرٹری عبد الحلیم بوٹو کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جی ٹین منتقلی کا معاملہ زیر بحث لایا گیا۔ کابینہ نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں اس سے وکلاء کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں آسانی ہوگی، وہیں سائلین کو بھی حصول انصاف میں آسانی ہو گی۔ کابینہ نے مزید یہ بھی کہا کہ اس معاملہ کو جنرل باڈی اجلاس میں بھی زیر بحث لانا چاہئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کورٹ ہائی کورٹ بار ہائی کورٹ کی کہا کہ کی گئی
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔