وفاق کی زمین کچی آبادی کو کیسے الاٹ کر دی، ریلوے آنکھیں بند کر کے بیٹھا تھا: جسٹس حسن رضوی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) ریلوے اراضی پر تجاوزات کیس میں وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ تجاوزات بن رہی تھی، قبضہ ہو رہا تھا اور ریلوے آنکھیں بند کرکے بیٹھا تھا، زمین کی واگزاری کے لیے کسی نے ریلوے کے ہاتھ نہیں باندھ رکھے۔ جسٹس حسن رضوی جسٹس اور کے کے آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ریلوے نے ملکیتی زمین کی واپسی کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ ریلوے اراضی پر تجاوزات و قبضہ کے ذمہ داران آفیشل کے خلاف ریلوے نے کیا کارروائی کی؟ تفصیلی رپورٹ دی جائے۔جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ ریلوے ملکیتی زمین پر قبضہ و تجاوزات کو روکنے والا کوئی ہے یا نہیں، ریلوے کی زمین قوم کی امانت ہے۔ قیام پاکستان کے وقت کتنی ٹرینیں چلتی تھیں، آج ریلوے کی ٹرینوں اور پٹڑیوں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے۔جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ ریلوے کے بہترین کلب اور اسپتال تھے لیکن وہ بھی ختم ہوگئے، ریلوے کی زمین پر کچی آبادیاں انڈسٹری اور گوٹھ بن گئے ہیں۔ کیا ریلوے کو تجاوزات اور قبضے کے لیے زمین دی گئی تھی۔ریلوے وکیل سے جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ کیا ریلوے کی زمین کو زیر استعمال لانے کا کوئی پلان ہے؟ ریلوے کو ساری زمین واپس مل جائے تو کیا کریں گے۔ آئینی عدالت کا یہ مطلب نہیں غیر آئینی چیزوں میں چلے جائیں۔وکیل ریلوے شاہ خاور نے بتایا کہ پنڈی میں ریلوے کی 1359 کنال اراضی پنجاب حکومت نے کچی آبادی کو دی تھی اور پنڈی کا ریلوے اسٹیشن بھی اسی اراضی میں شامل تھا، پنجاب نے غلطی تسلیم کر لی ہے اور 1288 کنال اراضی واپس ریلوے کے نام منتقل ہو چکی ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ریلوے کے افسران ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں، افسران اے سی روم میں بیٹھے رہیں گے تو زمینوں پر قبضہ ہی ہوگا۔ صوبائی حکومت نے وفاق کی زمین کچی آبادی کو کیسے الاٹ کر دی، ریلوے کو تجاوزات کے خاتمے سے کس نے روکا ہے، تجاوزات و قبضے کے خلاف ریلوے ایکشن کیوں نہیں لیتی۔وفاقی آئینی عدالت نے ریلوے اراضی پر تجاوزات و قبضہ کی رپورٹ طلب کرلی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رضوی نے ریمارکس دیے کہ جسٹس حسن رضوی ریلوے کے کہ ریلوے ریلوے کی کی زمین ریلوے ا
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :