ریاست بہار انتخابی نتائج: نتیش کمار کے 10 ویں بار وزیراعلیٰ بننے کے امکانات روشن
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
بھارتی ریاست بہار کے اسمبلی انتخاب 2025 میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور نتیش کمار کو 10 ویں مرتبہ وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار کردیا ہے۔ این ڈی اے نے 243 رکنی ایوان میں تقریباً 202 نشستیں جیت لی ہیں۔
یہ نتیش کمار اور ان کے اتحادیوں مہاگٹھ بندھن (یعنی ریاستی اپوزیشن اتحاد) کے لیے ایک کی یہ کامیابی بھاری دھچکا ہے، جو اب صرف 30-40 کے درمیان نشستوں پر محدود نظر آتی ہے۔
بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں این ڈی اے نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور 202 نشستیں جیت کر مکمل اکثریت حاصل کی ہے، جو 243 رکنی اسمبلی میں فیصلہ کن جیت ہے۔
یہ بھی پڑھیے بہار الیکشن کے ایگزٹ پولز کے نتائج جاری، کس کی کامیابی کے امکانات زیادہ؟
انتخابی نتائج کے مطابق بی جے پی نے 89 نشستیں حاصل کیں جبکہ نتیش کمار کی جماعت ’جے ڈی(یو) نے 85 جبکہ چیرگ پاسوان کی پارٹی نے ’رام ولاس‘ نے 19 سیٹیں حاصل کیں۔
دوسری طرف اپوزیشن اتحاد ’مہاگٹھ بندھن‘ کی سیٹوں کی تعداد 30 سے 40 کے درمیان ہے۔ جس میں آر جے ڈی نے 25 جبکہ کانگریس نے 6 نشستیں حاصل کیں۔
یہ بھی پڑھیے بہار اسمبلی کے انتخابات، کیا بی جے پی اپنی 74 نشستیں برقرار رکھ پائے گی؟
انتخابی نتائج کے مطابق این ڈی اے نے 47 فیصد جبکہ مہاگٹھ بندھن نے 38 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ این ڈی اے میں بی جے پی کو نتیش کمار کی جماعت جے ڈی یو سے نشستوں اور ووٹوں میں معمولی برتری حاصل رہی۔ مجموعی طور پر کانگریس کو بہار کے ریاستی انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی ریاست بہار نتیش کمار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی ریاست بہار نتیش کمار
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔