وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ برطانوی جریدے نے اسٹوری چھاپی کہ بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھی، بانی پی ٹی آئی فیصلے ایکسپرٹ سے نہیں بشریٰ بی بی سے پوچھ کر کرتے تھے۔

عطا اللّٰہ تارڑ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ دنیا کے جریدے کہہ رہے ہیں تمام فیصلے ایک خاتون کرواتی تھیں، بانی پی ٹی آئی کے جتنے فیصلے تھے روحانیت کا لبادہ اوڑھے اِن کی اہلیہ کرتی تھی، تمام معاشی اور سیاسی فیصلے اِن کی اہلیہ کیا کرتی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے کہنے پر حکومتی فیصلے کیا کرتے تھے، بانی پی ٹی آئی کی سیاست منافقت، جھوٹ اور بہتان کے سوا کچھ نہیں تھی۔

عطا اللّٰہ تارڑ نے کا کہنا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے شہباز شریف پر جھوٹا الزام لگایا تھا، شہباز شریف نے عدالت پیش ہو کر پی ٹی آئی کے وکیل کے سوالوں کا جواب دیا، بانیٔ پی ٹی آئی نے مختلف فورمز پر شہباز شریف پر الزامات دہرائے، آج دنیا کے جریدے کہہ رہے ہیں بانی کے فیصلوں کے پیچھے جھوٹ اور بہتان کا نظام تھا۔

اِن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے 2017ء کے دھرنوں کے دوران بھی جھوٹے الزامات لگائے گئے، پی ٹی آئی کے پاس الزام تراشی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

وفاقی وزیرِ نے یہ بھی کہا کہ وانا کیڈٹ کالج کا سانحہ اے پی ایس سے بڑا ہو سکتا تھا، مسلح افواج اور دیگر فورسز کا کردار قابل ستائش ہے، اسلام کچہری دھماکے کے ملزمان کو پکڑ لیا گیا ہے ، اِن شا اللّٰہ ملک میں امن ضرور آئے گا، ٹیم ورک کے تحت پاکستان میں ان شا اللّٰہ کرکٹ جاری رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی عطا الل فیصلے ا ہ تارڑ

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری