1.5 کروڑ کا لباس ، 2 کروڑ کے زیورات؟ ڈاکٹر نبیحہ نے خود حقیقت بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) سوشل میڈیا اسٹار اور ٹی وی میزبان ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے اپنی شادی میں پہنے گئے لباس اور زیورات کی مالیت کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ ان کے بتائے گئے دعوے محض زبان کی لغزش تھے۔
گزشتہ روز سے ڈاکٹر نبیحہ علی خان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کا سفید رنگ کا عروسی لباس ڈیزائنر حنا سلمان نے تیار کیا ہے، جس کی قیمت تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کے زیورات کا سیٹ 40 تولے کا ہے، جو انہیں ان کے شوہر حارث کھوکھر نے تحفے میں دیا اور اس کی مالیت تقریباً 2 کروڑ روپے ہے۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان کی اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، جس پر اب ان کا ردعمل سامنے آ گیا ہے۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے لباس اور زیورات کی قیمتوں کے بارے میں غلط بیانی کی تھی، تاہم ان کے مطابق یہ صرف زبان کی لغزش تھی۔
انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھار انسان خوشی میں غلط بات کہہ دیتا ہے اور ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، خوشی میں وہ لاکھوں کی چیز کی قیمت کروڑوں میں بتا بیٹھیں۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے مزید کہا کہ وہ جو بھی پہنتی ہیں، وہ کروڑوں کا ہی لگتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ کروڑوں میں ہی سوچتی ہیں اور خود بھی کروڑوں میں ایک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ان کے بارے میں حد سے زیادہ جنون چھوڑ دینا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔