باجوڑ میں فورسز کی کارروائی‘سیاسی رہنمائوں کے قتل میں ملوث دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-01-5
باجوڑ(مانیٹر نگ ڈ یسک) خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی۔ جس میں پی ٹی آئی رہنما ریحان زیب اور اے این پی کے رہنما مولانا خان زیب کے قتل میں ملوث دہشت گرد ضیا الدین عرف ابراہیم ادریس مارا گیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق کوثر کے علاقے میں کارروائی کے دوران ہلاک دہشت گرد دیگر بھی متعدد ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔ دہشت گرد ڈپٹی کمشنر ناوگئی اور جے یوآئی کے ارکان کے قتل میں بھی شامل تھا۔ ہلاک دہشت گرد نے متعدد پولیس اہلکاروں کو بھی قتل کیا۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گرد ضیا الدین طالبان کے کابل پر قبضے سے قبل افغان جیل میں قید تھا۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گرد ضیاالدین کو رہا کر دیا گیا تھا، ضیا الدین 2023ء میں افغانستان سے پاکستان داخل ہوا تھا۔ دہشت گرد ضیا الدین کی ہلاکت سے داعش خراسان کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دہشت گرد ضیا ضیا الدین
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔