کانگریس لیڈر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ چوری صاف صاف ہوئی ہے، پچیس لاکھ ووٹ چوری کئے گئے ہیں، ہر آٹھ میں سے ایک ووٹ بدلا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اتوار کو بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر "ووٹ چوری" ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین پر حملہ ہو رہا ہے اور کانگریس کے پاس اس کے مزید شواہد موجود ہیں جو وقت آنے پر پیش کئے جائیں گے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ تقریباً 25 لاکھ ووٹ چوری کئے گئے ہیں اور دعویٰ کیا کہ ہر آٹھ میں سے ایک ووٹ میں ہیرا پھیری ہوئی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ چوری صاف صاف ہوئی ہے، پچیس لاکھ ووٹ چوری کئے گئے ہیں، ہر آٹھ میں سے ایک ووٹ بدلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو اعداد و شمار ہیں، اس کے مطابق یہی صورتحال مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں بھی ہوئی ہے، یہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی مشترکہ پالیسی ہے، ہمارے پاس مزید ثبوت ہیں، ہم مناسب وقت پر پیش کریں گے۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ ووٹ چوری کا ہے اور "ایس آئی آر" ایک ایسا نظام ہے جو اس چوری کو ادارہ جاتی شکل دینے اور اسے چھپانے کا طریقہ ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہماری تفصیلی معلومات ہیں، ابھی تو بہت تھوڑا بتایا ہے، جمہوریت اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین پر حملہ ہو رہا ہے اور یہ حملہ نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مشترکہ شراکت سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے لئے نقصاندہ ہے۔ راہل گاندھی نے حال ہی میں ہریانہ کے انتخابات میں بھی بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ووٹر لسٹ جھوٹی ہے تو پھر جمہوریت باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سچ اور عدم تشدد کے ذریعے جمہوریت کو بچانے کے لئے آگے آئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے انہوں نے کہا نے کہا کہ ووٹ چوری ہوئی ہے

پڑھیں:

موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔

 پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار