اقبال کے افکار پر عمل کر کے پاکستان کو فلاحی ریاست بنایا جاسکتا ہے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے یومِ پیدائش پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب اور اہلِ پنجاب علامہ اقبال کی فکری عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کا شعور دیا اور قوم کی سمت متعین کی، اقبال کے افکار نے قائداعظم محمد علی جناح کے قافلے کو منزل کی طرف رواں دواں رکھا۔
مریم نواز نے کہا کہ علامہ اقبال نے نوجوانوں کے لیے اپنی شاعری میں فکر انگیز پیغام دیا اور قوم کو خودداری، اعلیٰ اقدار، انصاف پسندی، صاف گوئی اور جمہوریت کا درس دیا۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے مزار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسفۂ خودداری پر عمل دراصل علامہ اقبال سے اظہارِ محبت کا بہترین طریقہ ہے، جبکہ اقبال کے افکار پر عمل پیرا ہو کر ہی پاکستان کو ایک اعتدال پسند اور فلاحی ریاست بنایا جاسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری اور افکار پر عمل کرنا ہی انہیں حقیقی خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں بحیثیتِ قوم علامہ اقبال کے افکار کو مشعلِ راہ بنانے کے عزم کا اعادہ کرنا چاہیے، کیونکہ علامہ اقبال کے تصورِ پاکستان کو سمجھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہ علامہ اقبال مریم نواز نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔