موجودہ پاکستان علامہ اقبالؒ کے خواب کے برعکس ہے، اسلم فاروقی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (جسارت نیوز) بانیان پاکستان کی اولادوں کی تنظیم محب قومی سماجی کونسل (ایم کیو ایس سی) پاکستان کے چیئرمین و محب وطن سماجی رہنما محمد اسلم خان فاروقی نے کہا ہے کہ موجودہ پاکستان شاعر مشرق، مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کے خوابوں کے برعکس ہے، ملک میں آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، حکمران اپنی جائیدادیں اثاثے و اقتدار بچانے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ڈر خوف سے 27ویں ترمیم لارہے ہیں، عمران خان کی گرفتاری بھی حکمرانوں کے خوف کی ہی ایک کڑی ہے، اس وقت ملک میں لیڈر شپ کا شدید فقدان ہے یہی وجہ ہے کہ عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور 2 وقت کی روٹی تک کیلیے رل رہے۔ مرکز فاروقیہ میں معززین سے گفتگو کرتے ہوئے اسلم خان فاروقی نے کہا کہ ہماے بزرگوں نے لازوال و عظیم قربانیاں دیکر پاکستان کا قیام ممکن بنایا تھا قوم کو چاہیے کہ بزرگوں کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہ جانے دے اور ملک و نئی نسل کے روشن مستقبل کیلیے بھرپور جدوجہد کرے اور آئین میں دیے گئے اپنے بنیادی حقوق کیلیے بھرپور آواز بلند اٹھائیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خلق خدا کو تڑپانے والے اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں پائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔