پشاور: بچوں کے سامنے ماں باپ اور دادی کو پھانسی دینے اور ذبح کرنے کا واقعہ، تہرے قتل کے پیچھے کون؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
پشاور میں میاں بیوی اور ماں کو انتہائی بے دردی سے قتل کرنے کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق تینوں مقتولین کو پہلے پھانسی دی گئی، پھر ذبح کیا گیا اور کلہاڑی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پشاور پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ ہفتے علاقے اول کلے، تھانہ فقیر آباد کی حدود میں پیش آیا۔ کئی دن گزرنے کے باوجود بھی پولیس تاحال ملزمان تک نہیں پہنچ سکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
ایس پی فقیر آباد ارشد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ تہرے قتل کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اُن کے مطابق، ‘یہ ایک انتہائی افسوسناک اور خوفناک واقعہ ہے جو رات کے آخری پہر میں پیش آیا۔’
ایس پی نے بتایا کہ کیس میں پیش رفت ہوئی ہے اور کسی بھی وقت گرفتاری ممکن ہے۔
‘پھانسی دی، ذبح کیا اور کلہاڑی سے وار کیا گیا’تحقیقات سے وابستہ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ 3 مختلف ٹیمیں اس واقعے کی تفتیش کر رہی ہیں۔ اُن کے مطابق، ابتدائی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ مقتولین کو انتہائی بے دردی سے مارا گیا۔ مقتول عبد الرحمن محنت مزدور تھے، اُن کے ساتھ گھر میں والدہ، بیوی، اور دو کم سن بچے بھی رہتے تھے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ 4 سالہ بیٹے نے بیان دیا ہے کہ کچھ لوگ آئے، پہلے ابو کو مارا، پھر امی اور دادی کو، اور ہمیں کہا کہ تمہیں کچھ نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: مردان، خواجہ سرا کو چھری کے وار سے قتل کردیا گیا
لاشوں کے معائنے سے پتا چلا کہ تینوں کو پہلے پھانسی دے کر مارا گیا، پھر تیز دھار آلے سے ذبح کیا گیا اور کلہاڑی سے وار کیے گئے۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے ماں کی لاش بوری میں بند کر کے قریب واقع نہر میں پھینک دی، جبکہ میاں بیوی کی لاشیں گھر کے اندر ہی پائی گئیں۔ شبہ ہے کہ ملزمان لاشوں کے ٹکڑے کرنے والے تھے لیکن روشنی ہونے کے باعث فرار ہو گئے۔
پولیس نے بتایا کہ مقتول عبد الرحمن کا بھائی جو چارسدہ میں رہائش پذیر ہے، کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ مدعی نے بتایا کہ ان کے بھائی کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور وہ محنت مزدوری سے گزر بسر کرتے تھے۔ اُس نے مزید کہا کہ ‘ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے، دو معصوم بچے بچ گئے ہیں جن کی ذمہ داری اب ہم پر ہے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔’
تہرے قتل کے پیچھے کون؟پولیس کے مطابق، تحقیقات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور جلد گرفتاریاں متوقع ہیں۔ ایک تفتیشی افسر نے بتایا کہ شواہد سے لگتا ہے کہ اس واردات میں خاندان کا کوئی فرد ملوث ہو سکتا ہے۔ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ معاملہ گھریلو تنازع یا ‘مستورات کے جھگڑے’ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت سے لگتا ہے کہ یہ بدلے یا شدید غصے کا شاخسانہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بچے پشاور پشاور پولیس تحقیقات جرم قتل ماں باپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بچے پشاور پشاور پولیس تحقیقات قتل ماں باپ پولیس کے مطابق نے بتایا کہ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔