Islam Times:
2026-07-24@02:30:52 GMT

حکیم مشرق اقبال اور علامہ ہروی کی ابتدائی ملاقاتیں

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

حکیم مشرق اقبال اور علامہ ہروی کی ابتدائی ملاقاتیں

اسلام ٹائمز: تقدیر کے قاضی کا فتویٰ ملاحظہ ہو کہ ان دو بزرگوں کی ملاقات سے ملت کے نوخیر تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک دائمی انقلاب پیدا ہونا تھا، جو مسجد اور منبر سے نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ مبارک صحبت تھی، جس نے علامہ صاحب سے تجدید اسلام جیسا مضمون تصنیف کرایا اور علامہ صاحب کی فکر میں تبدیلی کیسے پیدا ہوئی۔ اس پر غور کیجئے تو سوائے حضرت شیخ کی روحانی توجہ کے اور کوئی سبب نظر نہیں آتا۔ یہ بلند مقام جو قیود دستور سے بالاتر ہو۔ بہت بڑے دوربین بزرگوں کو ہی حاصل ہوتا ہے، ورنہ فرقہ پرستی، ملا پرستی، احبار پرستی غرض یہ کہ ہر قسم کی نفس پرستی، خود غرضی پر ہی منتج ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بزرگوں سے ہمیشہ ملت اسلامیہ کی دستگیری فرمائے۔ تحریر: سید نثار علی ترمذی

آج سے نصف صدی قبل کی بات ہے کہ انار کلی بازار میں ہماری دکان موسومہ بٹ اینڈ کمپنی تھی، جو اب ختم ہوچکی ہے۔ اس کی بالائی منزل پر علامہ اقبال مرحوم کا دفتر تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب علامہ مرحوم پورے شباب پر تھے اور روزانہ صبح کو اس وقت کی عدالت عالیہ یعنی چیف کورٹ میں اپنی گھوڑا گاڑی میں جایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں بھی آپ نہایت پروقار انداز رکھتے تھے اور قابل رشک صحت کے مالک تھے۔ انگلستان اور جرمنی میں تعلیم و قیام کے دوران میں آپ اپنے اجتہادی فلسفیانہ مضامین کی بنا پر مشاہیر علماء میں عالمگیر شہرت حاصل کرچکے تھے۔ دوسری وجہ آپ کی تجدیدی شاعری تھی، جس نے دنیائے غور و فکر میں خاص مقام حاصل کر لیا تھا۔ غرض یہ کہ اس وقت کے بلند پایہ علمی رسالہ کے روح رواں سر شیخ عبدالقادر مرحوم آپ کو پرعظمت محبت سے دیکھتے تھے اور آپ نے ہی علامہ صاحب کو ملت اسلامیہ سے روشناس کرانے میں سبقت کی تھی۔

گویا یہ چند وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے اکثر دور دراز مقامات سے ملاقاتی آتے رہتے تھے۔ یہ نو وارد مشتاقین انارکلی میں آتے اور آہستہ آہستہ پوچھتے پوچھتے اپنی گاڑی ہماری دکان کے سامنے کھڑی کرکے دریافت کرتے، گویا ہمیں علامہ صاحب کے دربار کا حاجب خیال فرماتے۔ اسی لیے مجھے ہر آنے جانے والے ملاقاتی کی  بابت معلوم ہے کہ کون بزرگ آئے اور کب آئے۔ باوجود یہ کہ نواب صاحب کنج پورہ (کرنال) اور مولانا شبلی، سر سید علی امام، صاحب زادہ آفتاب احمد اور اسی مرتبے کے اکثر اکابر آتے رہے، لیکن اس وقت میں صرف حضرت شیخ عبدالعلی ہروی تہرانی کے متعلق گزارش کرتا ہوں کہ غالباً 1910ء کا ذکر ہے، ایک دن نواب فتح علی خان مرحوم کی ذاتی گھوڑا گاڑی ہماری دکان کے آگے رکی اور غنی لالہ، جو اس وقت حضرت شیخ کے ساتھ بطور خدمت گار مقرر تھا، ہم سے علامہ صاحب کے دفتر کا راستہ پوچھا، جو اندر ڈیوڑھی میں سے اوپر کو جاتا تھا۔

اس طرح مجھے حضرت شیخ کے آگے آگے چلنے کا فخر حاصل ہوا اور اوپر پہنچ کر مجھے تو ایسا معلوم ہوا، شاید حضرت شیخ اور علامہ کیمبرج میں اکٹھے ہی رہے ہوں۔ اتنے مانوس کہ دونوں کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھے۔ ازاں بعد حضرت کے  مواعظ اکثر کربلا گامے شاہ میں ہوتے رہے ہیں، چونکہ واعظ فارسی زبان میں ہوتا تھا،  اس لیے ترجمے کے فرائض علامہ اقبال ادا کرتے تھے۔ پھر تو میں نے یہ دیکھا کہ حضرت شیخ روزانہ بعد از ظہر تشریف لاتے اور بعد عصر واپس جاتے۔ ان ملاقاتوں کے بعد حکیم ملت کے نظریات میں عظیم انقلاب واقع ہوا۔ اسرار خودی اور رموز بے خودی (بزبان فارسی) اسی انقلاب کا نتیجہ ہے۔ ویسے بھی علامہ صاحب بوقت پیدائش حضرت شمس علماء علامہ سید میر حسن صاحب (سیالکوٹ )کے لب چشیدہ تھے اور تکمیل علم کے بعد حضرت شیخ جیسے یگانہ ملت کی توجہ میسر ہوئی، جس سے علامہ صاحب کو نہ صرف علمی بلکہ روحانی فیض بھی حاصل ہوا۔

ایک بات قابل غور ہے کہ حضرت شیخ کی روحانی توجہ کے بعد علامہ صاحب نے اپنا مافی الضمیر ہمیشہ فارسی زبان میں ہی ادا فرمایا۔ اس کے جواز میں ایک  واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ایک دن جسارت کرکے میں بھی بزرگوں کی زیارت کے لیے اوپر چلا گیا۔ تو ان کی روحانی عظمت نے مجھے مزید آگے بڑھنے نہ دیا۔ لیکن میں نے وہاں پر کھڑے کھڑے یہ الفاظ سنے جو حضرت شیخ کے منہ سے محبت کے ساتھ نکلے "اقبال من از دہن شما می گویم" (اقبال میں تو تیرے دہن (زبان) سے کہتا ہوں) اللہ اللہ کس قدر مشفقانہ توجہ تھی، جو حضرت شیخ نے علامہ صاحب پر صادر فرمائی۔ مجھے یہ بات کہتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ حضرت شیخ اپنے وقت کے مجدد ملت تھے اور وہ پیغام حق جو بطور امانت آپ کے پاس تھا، اس کے لیے آپ نے اپنی بالغ  نظری سے علامہ اقبال کو ہی منتخب فرمایا۔

ملت اسلامیہ کے عالمگیر مسائل کچھ اور ہی ہوتے ہیں اور یہ سطحی نہیں ہوتے بلکہ نہایت عمیق ہوتے ہیں۔ برعکس اس کے کہ ہر شہر اور ہر ملک کے مقامی مسائل مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ان بزرگوں کی مقامی اہمیت کی بجائے ان کی ملی   عظمت کو دیکھنا ہے۔ کیونکہ تمام پر تصریحات دور رس ہوتی ہیں۔ اس لیے چند لوگ ہی ان قدسی نفوس کے تبرکات سے متمتع ہوتے ہیں۔ جذبات سے بالاتر ہونا اور مستقبل کو مدنظر رکھنا یہ مرتبہ ہر صدی میں ایک یا دو ہستیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ ظاہر کی آنکھ میں علامہ صاحب ایک غیر مذہبی آدمی نظر آتے ہیں اور حضرت شیخ اپنے وطن سے جلاوطن شدہ سیاسی پناہ گزین دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن تقدیر کے قاضی کا فتویٰ ملاحظہ ہو کہ ان دو بزرگوں کی ملاقات سے ملت کے نوخیر تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک دائمی انقلاب پیدا ہونا تھا، جو مسجد اور منبر سے نہیں ہوسکتا تھا۔

یہ مبارک صحبت تھی، جس نے علامہ صاحب سے تجدید اسلام جیسا مضمون تصنیف کرایا اور علامہ صاحب کی فکر میں تبدیلی کیسے پیدا ہوئی۔ اس پر غور کیجئے تو سوائے حضرت شیخ کی روحانی توجہ کے اور کوئی سبب نظر نہیں آتا۔ یہ بلند مقام جو  قیود دستور سے بالاتر ہو۔ بہت بڑے دوربین بزرگوں کو ہی حاصل ہوتا ہے، ورنہ فرقہ پرستی، ملا پرستی، احبار پرستی غرض یہ کہ ہر قسم کی نفس پرستی، خود غرضی پر ہی منتج ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بزرگوں سے ہمیشہ ملت اسلامیہ کی دستگیری فرمائے آمین۔ (محمد بشیر علی، 21 رمضان المبارک 1389ھ ) مہ نامہ معارف اسلام، لاہور اپریل 1961ء۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملت اسلامیہ علامہ صاحب بزرگوں کی اور علامہ کی روحانی ہوتے ہیں میں ایک تھے اور

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار