Islam Times:
2026-06-03@03:49:21 GMT

حکیم مشرق اقبال اور علامہ ہروی کی ابتدائی ملاقاتیں

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

حکیم مشرق اقبال اور علامہ ہروی کی ابتدائی ملاقاتیں

اسلام ٹائمز: تقدیر کے قاضی کا فتویٰ ملاحظہ ہو کہ ان دو بزرگوں کی ملاقات سے ملت کے نوخیر تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک دائمی انقلاب پیدا ہونا تھا، جو مسجد اور منبر سے نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ مبارک صحبت تھی، جس نے علامہ صاحب سے تجدید اسلام جیسا مضمون تصنیف کرایا اور علامہ صاحب کی فکر میں تبدیلی کیسے پیدا ہوئی۔ اس پر غور کیجئے تو سوائے حضرت شیخ کی روحانی توجہ کے اور کوئی سبب نظر نہیں آتا۔ یہ بلند مقام جو قیود دستور سے بالاتر ہو۔ بہت بڑے دوربین بزرگوں کو ہی حاصل ہوتا ہے، ورنہ فرقہ پرستی، ملا پرستی، احبار پرستی غرض یہ کہ ہر قسم کی نفس پرستی، خود غرضی پر ہی منتج ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بزرگوں سے ہمیشہ ملت اسلامیہ کی دستگیری فرمائے۔ تحریر: سید نثار علی ترمذی

آج سے نصف صدی قبل کی بات ہے کہ انار کلی بازار میں ہماری دکان موسومہ بٹ اینڈ کمپنی تھی، جو اب ختم ہوچکی ہے۔ اس کی بالائی منزل پر علامہ اقبال مرحوم کا دفتر تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب علامہ مرحوم پورے شباب پر تھے اور روزانہ صبح کو اس وقت کی عدالت عالیہ یعنی چیف کورٹ میں اپنی گھوڑا گاڑی میں جایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں بھی آپ نہایت پروقار انداز رکھتے تھے اور قابل رشک صحت کے مالک تھے۔ انگلستان اور جرمنی میں تعلیم و قیام کے دوران میں آپ اپنے اجتہادی فلسفیانہ مضامین کی بنا پر مشاہیر علماء میں عالمگیر شہرت حاصل کرچکے تھے۔ دوسری وجہ آپ کی تجدیدی شاعری تھی، جس نے دنیائے غور و فکر میں خاص مقام حاصل کر لیا تھا۔ غرض یہ کہ اس وقت کے بلند پایہ علمی رسالہ کے روح رواں سر شیخ عبدالقادر مرحوم آپ کو پرعظمت محبت سے دیکھتے تھے اور آپ نے ہی علامہ صاحب کو ملت اسلامیہ سے روشناس کرانے میں سبقت کی تھی۔

گویا یہ چند وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے اکثر دور دراز مقامات سے ملاقاتی آتے رہتے تھے۔ یہ نو وارد مشتاقین انارکلی میں آتے اور آہستہ آہستہ پوچھتے پوچھتے اپنی گاڑی ہماری دکان کے سامنے کھڑی کرکے دریافت کرتے، گویا ہمیں علامہ صاحب کے دربار کا حاجب خیال فرماتے۔ اسی لیے مجھے ہر آنے جانے والے ملاقاتی کی  بابت معلوم ہے کہ کون بزرگ آئے اور کب آئے۔ باوجود یہ کہ نواب صاحب کنج پورہ (کرنال) اور مولانا شبلی، سر سید علی امام، صاحب زادہ آفتاب احمد اور اسی مرتبے کے اکثر اکابر آتے رہے، لیکن اس وقت میں صرف حضرت شیخ عبدالعلی ہروی تہرانی کے متعلق گزارش کرتا ہوں کہ غالباً 1910ء کا ذکر ہے، ایک دن نواب فتح علی خان مرحوم کی ذاتی گھوڑا گاڑی ہماری دکان کے آگے رکی اور غنی لالہ، جو اس وقت حضرت شیخ کے ساتھ بطور خدمت گار مقرر تھا، ہم سے علامہ صاحب کے دفتر کا راستہ پوچھا، جو اندر ڈیوڑھی میں سے اوپر کو جاتا تھا۔

اس طرح مجھے حضرت شیخ کے آگے آگے چلنے کا فخر حاصل ہوا اور اوپر پہنچ کر مجھے تو ایسا معلوم ہوا، شاید حضرت شیخ اور علامہ کیمبرج میں اکٹھے ہی رہے ہوں۔ اتنے مانوس کہ دونوں کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھے۔ ازاں بعد حضرت کے  مواعظ اکثر کربلا گامے شاہ میں ہوتے رہے ہیں، چونکہ واعظ فارسی زبان میں ہوتا تھا،  اس لیے ترجمے کے فرائض علامہ اقبال ادا کرتے تھے۔ پھر تو میں نے یہ دیکھا کہ حضرت شیخ روزانہ بعد از ظہر تشریف لاتے اور بعد عصر واپس جاتے۔ ان ملاقاتوں کے بعد حکیم ملت کے نظریات میں عظیم انقلاب واقع ہوا۔ اسرار خودی اور رموز بے خودی (بزبان فارسی) اسی انقلاب کا نتیجہ ہے۔ ویسے بھی علامہ صاحب بوقت پیدائش حضرت شمس علماء علامہ سید میر حسن صاحب (سیالکوٹ )کے لب چشیدہ تھے اور تکمیل علم کے بعد حضرت شیخ جیسے یگانہ ملت کی توجہ میسر ہوئی، جس سے علامہ صاحب کو نہ صرف علمی بلکہ روحانی فیض بھی حاصل ہوا۔

ایک بات قابل غور ہے کہ حضرت شیخ کی روحانی توجہ کے بعد علامہ صاحب نے اپنا مافی الضمیر ہمیشہ فارسی زبان میں ہی ادا فرمایا۔ اس کے جواز میں ایک  واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ایک دن جسارت کرکے میں بھی بزرگوں کی زیارت کے لیے اوپر چلا گیا۔ تو ان کی روحانی عظمت نے مجھے مزید آگے بڑھنے نہ دیا۔ لیکن میں نے وہاں پر کھڑے کھڑے یہ الفاظ سنے جو حضرت شیخ کے منہ سے محبت کے ساتھ نکلے "اقبال من از دہن شما می گویم" (اقبال میں تو تیرے دہن (زبان) سے کہتا ہوں) اللہ اللہ کس قدر مشفقانہ توجہ تھی، جو حضرت شیخ نے علامہ صاحب پر صادر فرمائی۔ مجھے یہ بات کہتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ حضرت شیخ اپنے وقت کے مجدد ملت تھے اور وہ پیغام حق جو بطور امانت آپ کے پاس تھا، اس کے لیے آپ نے اپنی بالغ  نظری سے علامہ اقبال کو ہی منتخب فرمایا۔

ملت اسلامیہ کے عالمگیر مسائل کچھ اور ہی ہوتے ہیں اور یہ سطحی نہیں ہوتے بلکہ نہایت عمیق ہوتے ہیں۔ برعکس اس کے کہ ہر شہر اور ہر ملک کے مقامی مسائل مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ان بزرگوں کی مقامی اہمیت کی بجائے ان کی ملی   عظمت کو دیکھنا ہے۔ کیونکہ تمام پر تصریحات دور رس ہوتی ہیں۔ اس لیے چند لوگ ہی ان قدسی نفوس کے تبرکات سے متمتع ہوتے ہیں۔ جذبات سے بالاتر ہونا اور مستقبل کو مدنظر رکھنا یہ مرتبہ ہر صدی میں ایک یا دو ہستیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ ظاہر کی آنکھ میں علامہ صاحب ایک غیر مذہبی آدمی نظر آتے ہیں اور حضرت شیخ اپنے وطن سے جلاوطن شدہ سیاسی پناہ گزین دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن تقدیر کے قاضی کا فتویٰ ملاحظہ ہو کہ ان دو بزرگوں کی ملاقات سے ملت کے نوخیر تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک دائمی انقلاب پیدا ہونا تھا، جو مسجد اور منبر سے نہیں ہوسکتا تھا۔

یہ مبارک صحبت تھی، جس نے علامہ صاحب سے تجدید اسلام جیسا مضمون تصنیف کرایا اور علامہ صاحب کی فکر میں تبدیلی کیسے پیدا ہوئی۔ اس پر غور کیجئے تو سوائے حضرت شیخ کی روحانی توجہ کے اور کوئی سبب نظر نہیں آتا۔ یہ بلند مقام جو  قیود دستور سے بالاتر ہو۔ بہت بڑے دوربین بزرگوں کو ہی حاصل ہوتا ہے، ورنہ فرقہ پرستی، ملا پرستی، احبار پرستی غرض یہ کہ ہر قسم کی نفس پرستی، خود غرضی پر ہی منتج ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بزرگوں سے ہمیشہ ملت اسلامیہ کی دستگیری فرمائے آمین۔ (محمد بشیر علی، 21 رمضان المبارک 1389ھ ) مہ نامہ معارف اسلام، لاہور اپریل 1961ء۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملت اسلامیہ علامہ صاحب بزرگوں کی اور علامہ کی روحانی ہوتے ہیں میں ایک تھے اور

پڑھیں:

گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد

کراچی:

شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں رب میڈیکل کے قریب منگل کی شب ایک تیز رفتار ڈمپر بے قابو ہو کر سڑک پر الٹ گیا تاہم خوش قسمتی سے قریب سے گزرنے والے شہری اور دیگر گاڑیاں بڑے حادثے سے محفوظ رہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ڈمپر اچانک توازن کھو بیٹھا اور سڑک پر الٹ گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

حادثے کے فوراً بعد ڈمپر کا ڈرائیور اور ایک اور شخص موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے ڈمپر کے کلینر کو پکڑ لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بعض افراد نے ڈمپر کو آگ لگانے کی کوشش کی تاہم اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور بروقت مداخلت کرتے ہوئے گاڑی کو جلائے جانے سے بچا لیا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ حادثہ سڑک پر موجود گہرے گڑھوں اور جاری کھدائی کے باعث پیش آیا جس کے نتیجے میں ڈمپر کا توازن بگڑ گیا اور وہ الٹ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل