Islam Times:
2026-06-02@22:56:39 GMT

اقبال کے مذہب پر علامہ عبدالعلی الہروی کی علمیت کا اثر

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

اقبال کے مذہب پر علامہ عبدالعلی الہروی کی علمیت کا اثر

اسلام ٹائمز: علامہ ہروی (اعلیٰ اللہ مقامہ) سے فیض یاب ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ علامہ کی آخری عمر تک اقبال نے جی بھر کر اپنی تحقیقات کو جاری رکھا اور تنہاء ملاقاتوں کے علاؤہ مواعظ میں بھی علامہ موصوف سے شبہات کے ازالے کے لیے سوالات کر دیا کرتے تھے اور علامہ کے تسلی و تشفی بخش جوابات سے مطمئن ہو جاتے تھے۔ علامہ شیخ نے دسمبر 1922ء میں انتقال فرمایا اور اس کے بعد اقبال کے جوہر دن بدن زیادہ ہی کھلتے گئے۔ کھوج: سید نثار علی ترمذی

اقبال اور اقبالیات دنیا اسلام میں اپنے خلوص، ہر دلعزیزی اور اسلامی تحقیقات کا سکہ بٹھا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر اسلامی ملک میں علامہ اقبال کو ذی علم طبقہ نے اپنے مقام پر اور عوام الناس نے اپنے مقام پر پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا ہے۔ پاک و ہند میں بالخصوص مسلمانوں کو بیدار کرنے میں اقبال کا کافی حصہ ہے، نہ صرف بوڑھے اور بچے بلکہ نوجوان مرد و عورتیں طلباء و طالبات اقبال کے کلام اور پیغام کے گرویدہ دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت نے بھی اقبالیات کو قبول کیا ہے، ہر سال یوم اقبال بطور ایک منظور شدہ تعطیل (Gazetted holiday) کے منایا جاتا ہے۔ اندریں حالات اس امر کی ضرورت سے انکار نہیں، اقبال کے مسلک کو صحیح طور پر سمجھا جائے، تاکہ ہمارے نوجوان اور ذی علم طبقہ کے لیے پیغام اقبال سے روشناس ہو کر مناسب راستہ اختیار کرنے میں آسانی ہو۔

بقول مفکر و محقق ڈاکٹر عسکری بن احمد "علامہ علیہ الرحمہ اپنی تمام عمر راہ مستقیم کی تلاش میں رہے۔ ان کی تلاش حق اس قدر حق پر ہے کہ اگر کچھ دن اور جیے رہتے تو ضرور ظاہر بظاہر جذبہ و جوش کی مومنیت کو پا لیتے اور اسی کو اولی الامر کہتے ہیں، جس کی شان میں "انا قران الناطق" ہوتی۔ اس  میں شک نہیں کہ اقبال کے اول سے لے کر آخر کلام تک آپ کو درجہ بدرجہ اسی تلاش حق کے نتائج نظر آئیں گے۔ اقبال کی تحقیقات کی بنا پر بعد رسول جہاں تک دین اسلام کا تعلق ہے، سوائے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے کوئی اور کوئی اول الامر ثابت نہیں۔ مثنوی اسرار خودی میں نیابت الٰہیہ کے تحت "اولی الامر" کو "قائم با امراللہ" یعنی من جانب اللہ تسلیم کر کے جمہوریت اور طریقہ انتخاب یعنی الیکشن سے انکار کیا ہے اور اس کا نمونہ "در شرح اسرار علی مرتضیٰ" لکھ کر اپنے مسلک کا اظہار کیا ہے۔

یہ مسلک اقبال کو وراثت میں نہ ملا تھا بلکہ تحقیقی تھا۔ جو بھی خلوص نیت سے  جستجو کرے، قدرت اس کی دستگیری کرتی ہے اور اس کے لیے تحقیقات کی راہوں کو آسان بنانے کے لیے ذرائع پیدا کر دیتی ہے۔ اقبال کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، یعنی سرکار علامہ شیخ عبدالعلی ہروی الطہرانی (اعلیٰ اللہ مقامہ) جیسے محقق اسلام جیسی ہستی اس سلسلے میں رہنمائی کا باعث بنی۔ شیخ ایران، عراق، مصر، ترکی کے شہرہ آفاق علماء سے اپنی علمیت قرآن و علوم حاضرہ کا سکہ منوا  چکے تھے اور جامع ازہر مصر میں شیخ کی تقریروں سے خلاف اسلام ادیان باطلہ کے گھر صف ماتم بچھ چکی تھی۔ مشترکہ ہندوستان کی اور بالخصوص مسلمانوں کی یہ بڑی خوش نصیبی تھی کہ شیخ کے ورود ہند کے اسباب پیدا ہوگئے۔ 1902ء میں ظلمت کدہ ہند میں وارد ہوئے اور ایک برس کراچی میں قیام کے بعد سندھ میں آئے اور سندھ سے وارد پنجاب ہوئے۔ جس جس کسی کو بھی علامہ شیخ کا قرب نصیب ہوا، وہ آپ کے کمالات علمی، عبادات و اذکار اور تزکیہ و روحانیت کا گرویدہ ہوتا گیا۔

زیادہ تر پٹیالہ، مالیر کوٹلہ، لاہور اور جھنگ میں قیام رہا۔ اہل لاہور نے بلاشبہ ان کے علم کی زیادہ قدر کی اور وہیں سے علامہ کے علم کے جوہر کھلے۔ مواعظ کا سلسلہ 1906ء سے شروع ہوا اور سلسلہ کامل سولہ برس تک یعنی 1922ء تک جاری رہا۔ مقربین میں سر علی امام، مسیح الملک حکیم اجمل خان، نواب سر ذوالفقار علی خان، خواجہ غلام ثقلین اور حکیم مشرق علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال جیسے عالی دماغ و آزاد خیال اصحاب بصیرت شامل تھے۔ حکیم مشرق علیہ الرحمہ نے سرکار شیخ کے بیانات کو صدق دل سے اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور ان کے بھرپور قرآنی و سائنسی علوم کے سامنے سر تسلیم ختم کر دیا۔ چنانچہ شیخ ہی سے مخاطب اقبال کے یہ اشعار اس امر پر کافی روشنی ڈالتے ہیں۔
اے مالک منہاج علی راہ دکھا دے
دروازہ رحمت مجھے للہ دکھا دے
جس در کا ہوں مشتاق وہ درگاہ دکھا دے
دربار شہنشاہ فلک جاہ دکھا دے
وہاں پہنچوں جہاں عرش بھی پایا نہیں رکھتا
ہمسایہ میں اس کا ہوں، جو سایہ نہیں رکھتا
(رخت سفر ص۔ 134، مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ)

دراصل علامہ (اعلیٰ اللہ مقامہ) سے اقبال کی ملاقاتیں 16-1915 سے شروع ہوئی تھیں، جیسا کہ فاضل محق محمد بشیر علی صاحب کے مضمون۔۔۔۔ ابتدائی ملاقاتیں (جو اس مضمون سے پیشتر درج ہے) ظاہر ہے۔ اقبال کے عقائد و تخیلات میں عظیم انقلاب ان ملاقاتوں ہی کا نتیجہ ہے، جو کہ اسرار خودی اور رموز بے خودی میں ظاہر ہوا۔ مجالس و محافل میں علامہ کی تقریروں کا ترجمہ کرنے کی ابتدائی خدمات بھی حکیم مشرق ہی کے سپرد تھیں۔ اقبال ہمیشہ شیخ (رح) کو سرکار علامہ کے الفاظ سے خطاب کرتے تھے۔ چنانچہ مہاراجہ سر کشن پرشاد بہادر شاد (وزیراعظم حیدرآباد دکن) سے حکیم مشرق کی خط و کتابت میں اس کا ذکر آتا ہے۔ یہ خط و کتابت شاد اقبال کے نام سے ادارہ ادبیات حیدر آباد دکن نے شائع کی، جسے ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور، ایم اے پی ایچ ڈی (لندن) پروفیسر صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے مرتب کیا ہے۔

اس میں ایک جگہ اقبال لکھتے ہیں: "۔۔۔۔۔ہاں یہ عرض کرنا بھول گیا کہ لاہور میں کچھ عرصہ سے ایک بہت بڑے ایرانی عالم مقیم ہیں، یعنی کہ سرکار علامہ شیخ عبدالعلی طہرانی۔ معلوم نہیں کبھی حیدرآباد میں بھی ان کا گزر ہوا یا نہیں۔ عالم متبحر ہیں۔ مذہباً شیعہ ہیں، مگر مطالب قرآن بیان فرماتے ہیں تو سمجھنے سوچنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ علم جفر میں کمال رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا ہوں۔ اگر اس موسم میں سرکار لاہور کا سفر کریں، خوب ہو کہ یہ آدمی دیکھنے کے قابل ہیں۔ محمد اقبال، 13 اکتوبر 1916ء (شاد اقبال پہلا حصہ خطوط ص۔ 7)

اس کا جواب مہاراجہ صاحب نے دیا: "۔۔۔۔ ابھی مجھے سرکار علامہ شیخ عبدالعلی الطہرانی سے آپ کے خط میں ملاقات کرنا باقی ہے۔ میں ان کا غائبانہ مشتاق ملاقات ہوں۔ مجھے علم نہیں نہ یاد ہے کہ حیدرآباد میں کبھی یہ آئے ہوں۔ میری طرف سے سلام شوق ملاقات۔ مزاج پرسی کیجئے اور کہیے کہ "علم جفر" کے مبارک احکام کے اثر سے مجھے بھی کچھ تسلی بخش حصہ ملنا چاہیے۔۔۔" فقیر شاد 11نومبر، 1916ء۔ (حوالہ ایضاً ص۔9) اس کے جواب میں اقبال نے لکھا: "۔۔۔۔ سرکار علامہ ہروی طہرانی سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ نہایت مخلصانہ سلام آپ کی خدمت میں پہنچاتے ہیں۔ اس سے پیشتر امرائے دکن میں سے کسی سے سرکار کے اوصاف کا تذکرہ سن چکے ہیں۔ فرماتے تھے کہ حیدرآباد کا سفر کروں گا تو مہاراجہ بہادر سے ضرور ملاقات کروں گا۔ دوسرے ملاقات کے مواقع پر اور بھی باتیں ان سے کروں گا اور جو کچھ وہ فرمائیں گے، دوسرے خط میں عرض خدمت والا کروں گا۔ مخلص دیرینہ: محمد اقبال، 4 دسمبر 1916ء (حوالہ ایضاً ص۔10)

علامہ ہروی (اعلیٰ اللہ مقامہ) سے فیض یاب ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ علامہ کی آخری عمر تک اقبال نے جی بھر کر اپنی تحقیقات کو جاری رکھا اور تنہاء ملاقاتوں کے علاؤہ مواعظ میں بھی علامہ موصوف سے شبہات کے ازالے کے لیے سوالات کر دیا کرتے تھے اور علامہ کے تسلی و تشفی بخش جوابات سے مطمئن ہو جاتے تھے۔ علامہ شیخ نے دسمبر 1922ء میں انتقال فرمایا اور اس کے بعد اقبال کے جوہر دن بدن زیادہ ہی کھلتے گئے۔ شیخ نے اپنے بیانات میں مسئلہ امامت اس قدر واضح کیا کہ اقبال "اصول امامت" تسلیم کرنے کے سوا انکار نہ کرسکا اور بالآخر پکار اٹھا:-
ہنوز ایں چرخ نیلی کج خرام است
ہنوز ایں کارواں دور از مقام است
ز کار بے نظام و چہ گویم
تو می دانی کہ امت بے امام است (ارمغان حجاز)

علامہ ہروی (رح) نے حکیم مشرق کو اس قدر صبہائے محبت اہل بیت پلا دی تھی کہ اقبال نے آخرکار ان الفاظ میں اپنی عقیدت کا اظہار کیا:-
نجف میرا مدینہ ہے مدینہ ہے میرا کعبہ
میں بندہ اور کا ہوں امت شاہ ولایت ہوں
جو سمجھوں اور کچھ خاک عرب میں سونے والے کو
مجھے معذور رکھ میں مست صہبائے محبت ہوں
محبت اقبال کے دل میں عشقِ کی حد تک پہنچ گئی۔ اس کے تمام پیغام کا مرکز یہ عشق ہی ہے اور اس کے نزدیک دین بغیر عشق کے اور کچھ نہیں۔
زندگی را شرع و آئین است عشقِ
اصل تہذیب است دیں، دین است عشقِ (جاوید نامہ)
اور اس وضاحت کے لیے محمد و آل محمد (علیہم السلام) ہی کو پیش کرتا ہے۔
عشق با نان جویں خیبر کشاد
عشق در اندام مہ چا کے نہاد

اور کبھی حسنین (علیہم الصلوۃ والسلام) کو مرکز "پر کار عشق" اور "قافلہ سالار عشق" کے الفاظ سے پکارتا ہے اور یہ یورپین نظام مادیت سے پوری طرح واقفیت رکھنے کے باوجود کہتا ہے:-
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف (بال جبریل)
وہ مسلمانوں کی ابتدائی حکومتوں سے بھی نالاں رہا، جو اسلامیت کو چھوڑ کر ملوکیت پر قائم ہوگئیں۔ جیسا کہ کہا:-
خود طلسم قیصر و کسریٰ شکست
خود سر تخت ملوکیت نشست
وہ نہ صرف ملوکیت سے بیزار رہا بلکہ جمہوریت کو بھی خلاف اسلام سمجھتا رہا:-
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کاری شود
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئید
کاش اقبال کے شیدائی اقبال کے پیغام کو سمجھیں۔
(ماہنامہ معارف اسلام لاہور، اپریل 1961ء)

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرکار علامہ اللہ مقامہ علامہ ہروی علامہ شیخ حکیم مشرق اور اس کے انکار نہ اقبال نے علامہ کے اقبال کے کروں گا دکھا دے کے لیے کیا ہے ہے اور

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل