Islam Times:
2026-07-24@04:37:11 GMT

اقبال کے مذہب پر علامہ عبدالعلی الہروی کی علمیت کا اثر

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

اقبال کے مذہب پر علامہ عبدالعلی الہروی کی علمیت کا اثر

اسلام ٹائمز: علامہ ہروی (اعلیٰ اللہ مقامہ) سے فیض یاب ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ علامہ کی آخری عمر تک اقبال نے جی بھر کر اپنی تحقیقات کو جاری رکھا اور تنہاء ملاقاتوں کے علاؤہ مواعظ میں بھی علامہ موصوف سے شبہات کے ازالے کے لیے سوالات کر دیا کرتے تھے اور علامہ کے تسلی و تشفی بخش جوابات سے مطمئن ہو جاتے تھے۔ علامہ شیخ نے دسمبر 1922ء میں انتقال فرمایا اور اس کے بعد اقبال کے جوہر دن بدن زیادہ ہی کھلتے گئے۔ کھوج: سید نثار علی ترمذی

اقبال اور اقبالیات دنیا اسلام میں اپنے خلوص، ہر دلعزیزی اور اسلامی تحقیقات کا سکہ بٹھا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر اسلامی ملک میں علامہ اقبال کو ذی علم طبقہ نے اپنے مقام پر اور عوام الناس نے اپنے مقام پر پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا ہے۔ پاک و ہند میں بالخصوص مسلمانوں کو بیدار کرنے میں اقبال کا کافی حصہ ہے، نہ صرف بوڑھے اور بچے بلکہ نوجوان مرد و عورتیں طلباء و طالبات اقبال کے کلام اور پیغام کے گرویدہ دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت نے بھی اقبالیات کو قبول کیا ہے، ہر سال یوم اقبال بطور ایک منظور شدہ تعطیل (Gazetted holiday) کے منایا جاتا ہے۔ اندریں حالات اس امر کی ضرورت سے انکار نہیں، اقبال کے مسلک کو صحیح طور پر سمجھا جائے، تاکہ ہمارے نوجوان اور ذی علم طبقہ کے لیے پیغام اقبال سے روشناس ہو کر مناسب راستہ اختیار کرنے میں آسانی ہو۔

بقول مفکر و محقق ڈاکٹر عسکری بن احمد "علامہ علیہ الرحمہ اپنی تمام عمر راہ مستقیم کی تلاش میں رہے۔ ان کی تلاش حق اس قدر حق پر ہے کہ اگر کچھ دن اور جیے رہتے تو ضرور ظاہر بظاہر جذبہ و جوش کی مومنیت کو پا لیتے اور اسی کو اولی الامر کہتے ہیں، جس کی شان میں "انا قران الناطق" ہوتی۔ اس  میں شک نہیں کہ اقبال کے اول سے لے کر آخر کلام تک آپ کو درجہ بدرجہ اسی تلاش حق کے نتائج نظر آئیں گے۔ اقبال کی تحقیقات کی بنا پر بعد رسول جہاں تک دین اسلام کا تعلق ہے، سوائے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے کوئی اور کوئی اول الامر ثابت نہیں۔ مثنوی اسرار خودی میں نیابت الٰہیہ کے تحت "اولی الامر" کو "قائم با امراللہ" یعنی من جانب اللہ تسلیم کر کے جمہوریت اور طریقہ انتخاب یعنی الیکشن سے انکار کیا ہے اور اس کا نمونہ "در شرح اسرار علی مرتضیٰ" لکھ کر اپنے مسلک کا اظہار کیا ہے۔

یہ مسلک اقبال کو وراثت میں نہ ملا تھا بلکہ تحقیقی تھا۔ جو بھی خلوص نیت سے  جستجو کرے، قدرت اس کی دستگیری کرتی ہے اور اس کے لیے تحقیقات کی راہوں کو آسان بنانے کے لیے ذرائع پیدا کر دیتی ہے۔ اقبال کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، یعنی سرکار علامہ شیخ عبدالعلی ہروی الطہرانی (اعلیٰ اللہ مقامہ) جیسے محقق اسلام جیسی ہستی اس سلسلے میں رہنمائی کا باعث بنی۔ شیخ ایران، عراق، مصر، ترکی کے شہرہ آفاق علماء سے اپنی علمیت قرآن و علوم حاضرہ کا سکہ منوا  چکے تھے اور جامع ازہر مصر میں شیخ کی تقریروں سے خلاف اسلام ادیان باطلہ کے گھر صف ماتم بچھ چکی تھی۔ مشترکہ ہندوستان کی اور بالخصوص مسلمانوں کی یہ بڑی خوش نصیبی تھی کہ شیخ کے ورود ہند کے اسباب پیدا ہوگئے۔ 1902ء میں ظلمت کدہ ہند میں وارد ہوئے اور ایک برس کراچی میں قیام کے بعد سندھ میں آئے اور سندھ سے وارد پنجاب ہوئے۔ جس جس کسی کو بھی علامہ شیخ کا قرب نصیب ہوا، وہ آپ کے کمالات علمی، عبادات و اذکار اور تزکیہ و روحانیت کا گرویدہ ہوتا گیا۔

زیادہ تر پٹیالہ، مالیر کوٹلہ، لاہور اور جھنگ میں قیام رہا۔ اہل لاہور نے بلاشبہ ان کے علم کی زیادہ قدر کی اور وہیں سے علامہ کے علم کے جوہر کھلے۔ مواعظ کا سلسلہ 1906ء سے شروع ہوا اور سلسلہ کامل سولہ برس تک یعنی 1922ء تک جاری رہا۔ مقربین میں سر علی امام، مسیح الملک حکیم اجمل خان، نواب سر ذوالفقار علی خان، خواجہ غلام ثقلین اور حکیم مشرق علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال جیسے عالی دماغ و آزاد خیال اصحاب بصیرت شامل تھے۔ حکیم مشرق علیہ الرحمہ نے سرکار شیخ کے بیانات کو صدق دل سے اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور ان کے بھرپور قرآنی و سائنسی علوم کے سامنے سر تسلیم ختم کر دیا۔ چنانچہ شیخ ہی سے مخاطب اقبال کے یہ اشعار اس امر پر کافی روشنی ڈالتے ہیں۔
اے مالک منہاج علی راہ دکھا دے
دروازہ رحمت مجھے للہ دکھا دے
جس در کا ہوں مشتاق وہ درگاہ دکھا دے
دربار شہنشاہ فلک جاہ دکھا دے
وہاں پہنچوں جہاں عرش بھی پایا نہیں رکھتا
ہمسایہ میں اس کا ہوں، جو سایہ نہیں رکھتا
(رخت سفر ص۔ 134، مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ)

دراصل علامہ (اعلیٰ اللہ مقامہ) سے اقبال کی ملاقاتیں 16-1915 سے شروع ہوئی تھیں، جیسا کہ فاضل محق محمد بشیر علی صاحب کے مضمون۔۔۔۔ ابتدائی ملاقاتیں (جو اس مضمون سے پیشتر درج ہے) ظاہر ہے۔ اقبال کے عقائد و تخیلات میں عظیم انقلاب ان ملاقاتوں ہی کا نتیجہ ہے، جو کہ اسرار خودی اور رموز بے خودی میں ظاہر ہوا۔ مجالس و محافل میں علامہ کی تقریروں کا ترجمہ کرنے کی ابتدائی خدمات بھی حکیم مشرق ہی کے سپرد تھیں۔ اقبال ہمیشہ شیخ (رح) کو سرکار علامہ کے الفاظ سے خطاب کرتے تھے۔ چنانچہ مہاراجہ سر کشن پرشاد بہادر شاد (وزیراعظم حیدرآباد دکن) سے حکیم مشرق کی خط و کتابت میں اس کا ذکر آتا ہے۔ یہ خط و کتابت شاد اقبال کے نام سے ادارہ ادبیات حیدر آباد دکن نے شائع کی، جسے ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور، ایم اے پی ایچ ڈی (لندن) پروفیسر صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے مرتب کیا ہے۔

اس میں ایک جگہ اقبال لکھتے ہیں: "۔۔۔۔۔ہاں یہ عرض کرنا بھول گیا کہ لاہور میں کچھ عرصہ سے ایک بہت بڑے ایرانی عالم مقیم ہیں، یعنی کہ سرکار علامہ شیخ عبدالعلی طہرانی۔ معلوم نہیں کبھی حیدرآباد میں بھی ان کا گزر ہوا یا نہیں۔ عالم متبحر ہیں۔ مذہباً شیعہ ہیں، مگر مطالب قرآن بیان فرماتے ہیں تو سمجھنے سوچنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ علم جفر میں کمال رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا ہوں۔ اگر اس موسم میں سرکار لاہور کا سفر کریں، خوب ہو کہ یہ آدمی دیکھنے کے قابل ہیں۔ محمد اقبال، 13 اکتوبر 1916ء (شاد اقبال پہلا حصہ خطوط ص۔ 7)

اس کا جواب مہاراجہ صاحب نے دیا: "۔۔۔۔ ابھی مجھے سرکار علامہ شیخ عبدالعلی الطہرانی سے آپ کے خط میں ملاقات کرنا باقی ہے۔ میں ان کا غائبانہ مشتاق ملاقات ہوں۔ مجھے علم نہیں نہ یاد ہے کہ حیدرآباد میں کبھی یہ آئے ہوں۔ میری طرف سے سلام شوق ملاقات۔ مزاج پرسی کیجئے اور کہیے کہ "علم جفر" کے مبارک احکام کے اثر سے مجھے بھی کچھ تسلی بخش حصہ ملنا چاہیے۔۔۔" فقیر شاد 11نومبر، 1916ء۔ (حوالہ ایضاً ص۔9) اس کے جواب میں اقبال نے لکھا: "۔۔۔۔ سرکار علامہ ہروی طہرانی سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ نہایت مخلصانہ سلام آپ کی خدمت میں پہنچاتے ہیں۔ اس سے پیشتر امرائے دکن میں سے کسی سے سرکار کے اوصاف کا تذکرہ سن چکے ہیں۔ فرماتے تھے کہ حیدرآباد کا سفر کروں گا تو مہاراجہ بہادر سے ضرور ملاقات کروں گا۔ دوسرے ملاقات کے مواقع پر اور بھی باتیں ان سے کروں گا اور جو کچھ وہ فرمائیں گے، دوسرے خط میں عرض خدمت والا کروں گا۔ مخلص دیرینہ: محمد اقبال، 4 دسمبر 1916ء (حوالہ ایضاً ص۔10)

علامہ ہروی (اعلیٰ اللہ مقامہ) سے فیض یاب ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ علامہ کی آخری عمر تک اقبال نے جی بھر کر اپنی تحقیقات کو جاری رکھا اور تنہاء ملاقاتوں کے علاؤہ مواعظ میں بھی علامہ موصوف سے شبہات کے ازالے کے لیے سوالات کر دیا کرتے تھے اور علامہ کے تسلی و تشفی بخش جوابات سے مطمئن ہو جاتے تھے۔ علامہ شیخ نے دسمبر 1922ء میں انتقال فرمایا اور اس کے بعد اقبال کے جوہر دن بدن زیادہ ہی کھلتے گئے۔ شیخ نے اپنے بیانات میں مسئلہ امامت اس قدر واضح کیا کہ اقبال "اصول امامت" تسلیم کرنے کے سوا انکار نہ کرسکا اور بالآخر پکار اٹھا:-
ہنوز ایں چرخ نیلی کج خرام است
ہنوز ایں کارواں دور از مقام است
ز کار بے نظام و چہ گویم
تو می دانی کہ امت بے امام است (ارمغان حجاز)

علامہ ہروی (رح) نے حکیم مشرق کو اس قدر صبہائے محبت اہل بیت پلا دی تھی کہ اقبال نے آخرکار ان الفاظ میں اپنی عقیدت کا اظہار کیا:-
نجف میرا مدینہ ہے مدینہ ہے میرا کعبہ
میں بندہ اور کا ہوں امت شاہ ولایت ہوں
جو سمجھوں اور کچھ خاک عرب میں سونے والے کو
مجھے معذور رکھ میں مست صہبائے محبت ہوں
محبت اقبال کے دل میں عشقِ کی حد تک پہنچ گئی۔ اس کے تمام پیغام کا مرکز یہ عشق ہی ہے اور اس کے نزدیک دین بغیر عشق کے اور کچھ نہیں۔
زندگی را شرع و آئین است عشقِ
اصل تہذیب است دیں، دین است عشقِ (جاوید نامہ)
اور اس وضاحت کے لیے محمد و آل محمد (علیہم السلام) ہی کو پیش کرتا ہے۔
عشق با نان جویں خیبر کشاد
عشق در اندام مہ چا کے نہاد

اور کبھی حسنین (علیہم الصلوۃ والسلام) کو مرکز "پر کار عشق" اور "قافلہ سالار عشق" کے الفاظ سے پکارتا ہے اور یہ یورپین نظام مادیت سے پوری طرح واقفیت رکھنے کے باوجود کہتا ہے:-
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف (بال جبریل)
وہ مسلمانوں کی ابتدائی حکومتوں سے بھی نالاں رہا، جو اسلامیت کو چھوڑ کر ملوکیت پر قائم ہوگئیں۔ جیسا کہ کہا:-
خود طلسم قیصر و کسریٰ شکست
خود سر تخت ملوکیت نشست
وہ نہ صرف ملوکیت سے بیزار رہا بلکہ جمہوریت کو بھی خلاف اسلام سمجھتا رہا:-
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کاری شود
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئید
کاش اقبال کے شیدائی اقبال کے پیغام کو سمجھیں۔
(ماہنامہ معارف اسلام لاہور، اپریل 1961ء)

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرکار علامہ اللہ مقامہ علامہ ہروی علامہ شیخ حکیم مشرق اور اس کے انکار نہ اقبال نے علامہ کے اقبال کے کروں گا دکھا دے کے لیے کیا ہے ہے اور

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف