data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر (نمائندہ جسارت )عوامی سہولت اور سیاحتی فروغ کے لیے روہڑی سے شروع ہونے والی “جمالو” اور “سفاری ٹرین” کے منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی میئر سکھر ارشد مغل، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ظفر اقبال پھلپوٹو، میونسپل کمشنر علی رضا انصاری، فوکل پرسن وزیر بلدیات عرفان داؤد پوٹو، ٹاؤن چیئرمین مکی شاہ محمد دین، ٹاؤن چیئرمین جیئے شاہ عزیز اللہ مغل، ٹاؤن چیئرمین نثار صدیقی، طارق حسین چوہان، چیئرمین میونسپل کمیٹی روہڑی میر یعقوب علی شاہ کے علاوہ صالح پٹ، باگڑجی، کنڈھرا کے بلدیاتی نمائندگان اور افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران چیف آفیسر ضلع کونسل لالا ظفر اقبال نے جمالو ٹرین منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ضلعی کونسل کے ساتھ ساتھ سکھر کی تمام میونسپل اور ٹاؤن کمیٹیوں کے اشتراک سے چلائے جانے والے جمالو ٹرین منصوبے کو سراہا گیا اور تمام بلدیاتی نمائندگان نے منصوبے پر مکمل اتفاقِ رائے کا اظہار کیا۔اس موقع پر چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ نے کہا کہ سکھر میں سیاحت کے فروغ اور عوام کے لیے صحت مند تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ضلعی سطح پر اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمالو ٹرین کے آغاز سے تاریخی شہروں سکھر اور روہڑی میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔سید کمیل حیدر شاہ نے مزید بتایا کہ لینسڈاؤن برج ایک تاریخی پل ہے، جس پر جمالو ٹرین کے لیے پلیٹ فارم کے ساتھ ایک خوبصورت پارک بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جمالو ٹرین کے ساتھ ساتھ سفاری ٹرین کا منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا۔اجلاس میں شریک مختلف ٹاؤنز اور کمیٹیوں کے چیئرمینوں نے ڈسٹرکٹ چیئرمین سکھر سید کمیل حیدر شاہ کے جاری عوامی منصوبوں کو سراہا اور یقین دلایا کہ وہ جمالو ٹرین منصوبے میں ڈسٹرکٹ کونسل کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سید کمیل حیدر شاہ جمالو ٹرین کے ساتھ ٹرین کے کے لیے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار