سکھر،بسکٹ فیکٹری انتظامیہ کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت )مقامی بسکٹ فیکٹری انتظامیہ کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف علی واسق کا احتجاجی مظاہرہ سکھر اور روہڑی کے رہائشی راجپوت برادری سے تعلق رکھنے والے محنت کش علی واسق نے نجی بسکٹ فیکٹری فیکٹری کی انتظامیہ کے مبینہ ظلم و زیادتیوں، ناانصافیوں اور رشوت ستانی کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ8 سال سے بسکٹ فیکٹری میں مستقل مزاجی سے کام کر رہا ہے، مگر انتظامیہ نے تاحال اسے مستقل (کنفرم) نہیں کیا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ فیکٹری انتظامیہ نے پچھلے تین ماہ سے اس کا گیٹ بند کر رکھا ہے، جس کے باعث وہ روزگار سے محروم ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔