Islam Times:
2026-06-03@01:44:03 GMT

ایران میں اقبال ؒ شناسی

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

ایران میں اقبال ؒ شناسی

اسلام ٹائمز: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایک بار فرمایا کہ ڈاکٹر علی شریعتی میں علامہ اقبال کی جھلک نظر آتی ہے، انکی فکر اقبال کی مانند ہے اور وہ بھی اقبال کی طرح صاحب فقر اور امت مسلمہ کے درد سے آشنا ہیں۔ ڈاکٹر شریعتی خود کہتے تھے کہ اقبال کی شخصیت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اسوہ حسنہ کی جھلک ملتی ہے۔ علامہ اقبال کا پی ایچ ڈی مقالہ بھی ایرانی تہذیب و فلسفے پر مبنی تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک لیکچر کے دوران انہوں نے کہا کہ یونان کی فتح سے روم کو جو نعمتیں ملیں، اسی طرح ایران کی فتح سے مسلمان مالا مال ہوئے۔ بلاشبہ علامہ اقبال کی شخصیت اور کلام پاکستان اور ایران کے درمیان ایک مضبوط ثقافتی اور فکری پل کی حیثیت رکھتا ہے، جو آنیوالے زمانوں میں بھی دونوں ممالک کے دلوں کو جوڑے رکھے گا۔ تحریر: توقیر کھرل

شاعر مشرق، حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ برصغیر کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، جن کی فکر اور شاعری نے نہ صرف اُمت مسلمہ بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں میں طبع آزمائی کی اور ہر زبان کو اپنے بلند افکار کی بدولت اعلیٰ مقام عطا کیا۔ شاعری کے لیے انہوں نے خاص طور پر اردو اور فارسی کو منتخب کیا، جو ان کی فکری گہرائی اور روحانی وسعت کی غماز ہے۔ علامہ اقبال ایران میں ''اقبال لاہوری'' کے نام سے معروف ہیں اور ان کی شاعری کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ فارسی میں ہے، جو انہیں ایرانی ادبی اور فکری ورثے کا ناگزیر جزو بناتا ہے۔ اقبال نے کبھی ایران کا دورہ نہیں کیا، مگر ان کی فکر نے 1979ء کے اسلامی انقلاب کو گہرا اثر دیا اور آج بھی ایرانی دانشوروں، طلباء اور عوام میں مقبول ہیں۔

انہوں نے فارسی کو اپنے فلسفیانہ اور روحانی افکار کے اظہار کے لیے منتخب کیا، کیونکہ یہ زبان ان کے خیالات کی گہرائی کو بہتر طور پر بیان کرسکتی تھی۔ ایرانی دانشور اقبال کو مولانا رومی کے بعد فارسی کا سب سے عظیم شاعر قرار دیتے ہیں اور ان کی شاعری میں ایران کو اسلامی اتحاد کا مرکز گردانتے ہیں، جیسا کہ اقبال نے فرمایا: ''اگر تہران مشرق کا جنیوا بن جائے تو دنیا کی حالت بدل جائے گی۔'' ایران میں اقبال کی شاعری کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے، خاص طور پر ''زبور عجم'' جو انقلاب سے قبل نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنی۔ ایک زمانے میں ایران بھر میں کوئی ''خیابان اقبال'' موجود نہ تھا اور اقبال کی نظم ''جوانان عجم'' کی آواز پر لبیک کہنے والے کم تھے، مگر اقبال خود آگاہ تھے کہ ان کی صدا ایک دن ضرور گونجے گی۔

آج ایران کا کوئی بڑا شہر ایسا نہیں، جہاں اقبال کے نام سے منسوب شاہراہ نہ ہو۔ مشہد میں وزارت تعلیم کے تحت چلنے والا کالج اقبال کے نام پر ہے، جبکہ تہران کی شاہراہ ولی عصر پر ''اقبال لاہوری سٹریٹ'' واقع ہے، جہاں استعمال شدہ کتابوں کی دکانوں میں اقبال کی کتابیں آسانی سے دستیاب ہیں۔ تہران یونیورسٹی اور فردوسی یونیورسٹی مشہد میں اقبال پر تحقیقاتی مقالہ جات لکھے جاتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان علمی تعاون کی روشن مثال ہیں۔ پاکستان اور ایران نہ صرف مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر جڑے ہوئے ہیں، بلکہ شاعر مشرق علامہ اقبال سے گہری عقیدت بھی ان کا مشترکہ ورثہ ہے۔ علامہ اقبال دونوں اسلامی جمہوریاؤں کے درمیان تاریخی اور فکری روابط کا ایک اہم باب ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے علامہ اقبال پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے اور انہیں ''مرشد'' کا درجہ دیا ہے، وہ اقبال کو ''مشرق کا بلند ستارہ'' قرار دیتے ہیں، جو ایرانی عوام میں ان کی قدر و منزلت کی عکاسی کرتا ہے۔

علامہ اقبال کو ایران اور اس کی ثقافت سے گہرا لگاؤ تھا، انہوں نے اپنی شاعری میں ہر خوبصورت چیز کو ایران سے تشبیہ دی اور کشمیر کو ''ایران صغیر'' کہہ کر اس کی خوبصورتی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ تہران میں منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی اقبال کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں آیت اللہ خامنہ ای نے اقبال کی شخصیت اور شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اقبال کا فارسی کلام بھی میرے نزدیک شعری معجزات میں سے ہے۔ ہمارے ادب کی تاریخ میں فارسی میں شعر کہنے والے غیر ایرانی بہت زیادہ ہیں، لیکن کسی کی بھی نشان دہی نہیں کی جاسکتی، جو فارسی میں شعر کہنے میں اقبال کی خصوصیات کا حامل ہو۔ اقبال کی مادری زبان فارسی نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اعلیٰ پائے کی فارسی شاعری کی، جو نہ صرف عوامی زبان سے بلند تھی بلکہ ادبی حلقوں کی زبان بھی تھی۔ ایرانی عوام نے اقبال کی شاعری کو بے حد پسند کیا اور اس کی پذیرائی کی۔

ایران میں اقبال شناسی کا سلسلہ دونوں برادر اسلامی ممالک پاکستان اور ایران کے درمیان ثقافتی اور فکری رابطوں کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔ اس روایت کی بنیاد جامعہ عثمانیہ کے شعبہ ایرانیات کے استاد سید محمد علی داعی الاسلام نے رکھی، جنہوں نے لیکچرز اور مقالات پر مبنی کتاب ''اقبال و شعر فارسی'' تحریر کی۔ اسی طرح سید محیط طباطبائی نے 1945ء میں اپنے مجلے کا ایک خصوصی اقبال نمبر شائع کیا، جو اقبال کی فکر کو ایرانی حلقوں میں متعارف کرانے کا اہم ذریعہ بنا۔ مرحوم پروفیسر سعید نفیسی نے فارسی میں اقبال شناسی کی بنیادوں کو مزید پختہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی، جبکہ ڈاکٹر پرویز ناتل خانلری نے مجلہ سخن میں ایک گراں قدر مقالہ لکھ کر اس روایت کو وسعت بخشی۔ 1951ء میں ایران کے مجلہ ''دانش'' نے ''اقبال نامہ'' کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی، جس میں 1950ء سے 1951ء کے دوران یوم اقبال کے موقع پر پڑھے گئے مقالات اور نظمیں شامل تھیں، جو اقبال کی شاعری اور فلسفے کی ایرانی معاشرے میں گونج کی عکاس تھیں۔

1970ء میں ایران کے مذہبی ادارے ''حسینہ ارشاد'' نے اقبال کی یاد میں ایک یادگار کانفرنس کا اہتمام کیا، جہاں تقاریر، مضامین اور شاعری کے ذریعے اقبال کے افکار کو اجاگر کیا گیا۔ 1973ء میں تہران یونیورسٹی کے سابق چانسلر ڈاکٹر فضل اللہ نے ''محمد اقبال'' کے عنوان سے ایک مختصر مگر مدلل مقالہ تحریر کیا، جو محض پچاس صفحات پر مشتمل ہونے کے باوجود اقبال شناسی کی راہ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ 1975ء میں فخرالدین حجازی نے تہران سے ''سرود اقبال'' نامی کتاب شائع کی، جو اقبال کی شاعری کی موسیقی اور لسانی خوبصورتی کو نمایاں کرتی ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی اقبال شناسی کے میدان میں ایک تابناک ستارہ ہیں، جو اقبال کے جلسوں اور کانفرنسوں میں پیش پیش رہتے اور ان کے خیالات کی ترویج میں دیانتداری کا مظاہرہ کرتے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایک بار فرمایا کہ ڈاکٹر علی شریعتی میں علامہ اقبال کی جھلک نظر آتی ہے، ان کی فکر اقبال کی مانند ہے اور وہ بھی اقبال کی طرح صاحب فقر اور امت مسلمہ کے درد سے آشنا ہیں۔ ڈاکٹر شریعتی خود کہتے تھے کہ اقبال کی شخصیت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اسوہ حسنہ کی جھلک ملتی ہے۔ علامہ اقبال کا پی ایچ ڈی مقالہ بھی ایرانی تہذیب و فلسفے پر مبنی تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک لیکچر کے دوران انہوں نے کہا کہ یونان کی فتح سے روم کو جو نعمتیں ملیں، اسی طرح ایران کی فتح سے مسلمان مالا مال ہوئے۔ بلاشبہ علامہ اقبال کی شخصیت اور کلام پاکستان اور ایران کے درمیان ایک مضبوط ثقافتی اور فکری پل کی حیثیت رکھتا ہے، جو آنے والے زمانوں میں بھی دونوں ممالک کے دلوں کو جوڑے رکھے گا۔

اقبال نے اپنی مادری زبان پنجابی کے بجائے اردو اور فارسی کو خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا، ان کی شاعری کے تقریباً بارہ ہزار اشعار میں سے سات ہزار فارسی میں ہیں، جو ان کے دس شعری مجموعوں میں سے چھ پر مشتمل ہیں۔ یہ انتخاب ان کی ایرانی تہذیب و فلسفہ سے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اقبال کی شاعری اور فلسفے نے ایرانی معاشرے پر گہری چھاپ چھوڑی، جہاں متعدد سڑکیں، لائبریریاں، جامعات اور ادارے ان کے نام پر ہیں، جو ان کے نظریات کی قدر کے غماز ہیں۔ یہ سب پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ روابط کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ ہیں، جو قومی اتحاد اور اسلامی بھائی چارے کی روشن مثالیں پیش کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان اور ایران کے درمیان اقبال کی شاعری اقبال کی شخصیت علامہ اقبال کی اقبال شناسی خامنہ ای نے فارسی میں ایران میں میں اقبال میں ایران کی فتح سے اور فکری اقبال کے اقبال کا کہ اقبال آیت اللہ انہوں نے جو اقبال میں ایک کی جھلک کی فکر اور ان کے نام

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل