data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی حکومت کو تقریباً 4 ارب ڈالر کے امدادی فنڈز کی اجازت دے دی ہے، جس کی وجہ سے رواںماہ کم آمدنی والے 4 کروڑ 20 لاکھ امریکیوں کے لیے فوڈ پروگرام کی مکمل ادائیگی مؤخر ہو گئی ۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب وفاقی حکومت شٹ ڈاؤن کے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے اس فیصلے کوایڈمنسٹریٹو اسٹے کہا جاتا ہے، جس کے تحت نچلی عدالت کو مزید وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ حکومت کی درخواست پر غور کر سکے۔ حکومت نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ نومبر کے لیے فوڈ اسٹامپ پروگرام کو جزوی طور پر فنڈ کرے۔جسٹس کیتنجی براؤن جیکسن نے یہ حکم جاری کیا، جو اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک بوسٹن میں قائم فرسٹ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز حکومت کی اپیل پر فیصلہ نہیں سناتا۔ اس سے قبل رہوڈ آئی لینڈ میں ضلعی جج جان میک کونل نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ نومبر کے مکمل فنڈز جاری کرے، جس کی لاگت تقریباً 8.

5 سے 9 ارب ڈالر کے درمیان بنتی ہے۔جج میک کونل کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے صرف 4.65 ارب ڈالر کے ایمرجنسی فنڈ کا اعلان کیا، جو کل ضرورت کا تقریباً نصف ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر امداد روک رہی ہے۔امریکی محکمہ انصاف کے وکلا نے سپریم کورٹ میں موقف اپنایا کہ اگر نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رہا تو اس سے مزید شٹ ڈاؤن افراتفری پیدا ہو گی اور حکومتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ ادھر مقدمے میں شامل شہروں اور سماجی تنظیموں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ حکومت کو مزید تاخیر کی اجازت نہ دے، کیونکہ اس سے لاکھوں ضرورت مند امریکی خوراک سے محروم ہو جائیں گے۔ فرسٹ سرکٹ کورٹ نے حکومت کی فوری درخواست مسترد کر دی تاہم کہا کہ وہ جلد باضابطہ فیصلے پر غور کرے گی۔اسی دوران امریکی محکمہ زراعت نے ریاستوں کو آگاہ کیا کہ فنڈز دستیاب کیے جا رہے ہیں تاکہ نومبر کے لیے مکمل ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔ اس اطلاع کے بعد نیویارک، نیوجرسی اور میساچوسٹس سمیت کئی ریاستوں نے اپنے فوڈ اسٹامپ پروگرام مکمل طور پر جاری کرنے کا اعلان کر دیا۔ میساچوسٹس کی گورنر مورا ہیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو کبھی امریکی عوام کو اس صورت حال میں نہیں ڈالنا چاہیے تھا۔ فوڈ اسٹامپ یا پروگرام امریکی تاریخ میں پہلی بار اس ماہ جزوی تعطل کا شکار ہوا ہے۔ کم آمدنی والے شہری اس سہولت سے اپنی روزمرہ خوراک کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ پروگرام کے تحت ایسے افراد جن کی آمدنی وفاقی غربت کی لکیر کے 130 فیصد سے کم ہے، انہیں ہر ماہ مالی امداد دی جاتی ہے۔ایک فرد کے لیے زیادہ سے زیادہ ماہانہ امداد 298 ڈالر اور دو افراد کے لیے 546 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی