قازقستان نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت اختیار کرلی: ٹرمپ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ قازقستان نے باضابطہ طور پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران قازقستان کے صدر بھی شریک تھے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے قازقستان کو ایک شاندار ملک اور باصلاحیت قیادت رکھنے والی قوم قرار دیا اور کہا کہ اس کی شمولیت دنیا میں امن، تعاون اور خوشحالی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جلد دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوں گے، جس سے خطے میں استحکام اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ ایک اور ملک ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کا اعلان کرے گا، جس کا مقصد اسرائیل اور مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ قازقستان ان کی دوسری مدتِ صدارت میں ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے والا پہلا ملک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ابراہیمی معاہدے میں
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔