شوگر اور مٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایما پر شوگر اور مٹاپے جیسی دیرینہ بیماریوں میں مبتلا افراد کو امریکی ویزا دینے سے انکار کرنے کا نیا قانون تیار کرلیا گیا ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی وزارتِ خارجہ نے دنیا بھر کی امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو تازہ ہدایات جاری کی ہیں۔ عام طور پر امریکی ویزا کے لیے درخواست دینے والوں کی صحت کی جانچ امیگریشن حکام کی جانب سے کی جاتی ہے، اس دوران ٹی بی جیسی متعدی بیماریوں کے لیے اسکریننگ کی جاتی ہے۔ اب ان قوانین میں ترمیم کی گئی ہے اور مزید بیماریوں کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکام یہ جانچیں گے کہ کیا درخواست دہندہ کسی طویل مدتی بیماری میں مبتلا ہے؟ اور اگر اسے امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے تو کیا اس سے حکومت پر مالی بوجھ بڑھے گا؟ ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ویزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ درخواست دہندہ کی صحت کو لازمی طور پر مدنظر رکھا جائے۔ دل کے امراض، سانس کی بیماریاں، کینسر، ذیابیطس، میٹابولک اور اعصابی بیماریاں، اور ذہنی صحت کے مسائل کے شکار افراد کی دیکھ بھال کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح مٹاپے کی وجہ سے دمہ، نیند کی کمی اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے مریضوں کو طویل مدتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت کے لیے بھاری خرچ ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ویزا افسران مہاجرین کی صحت کا جائزہ لے کر یہ طے کریں کہ آیا وہ سرکاری وسائل پر انحصار کریں گے یا نہیں۔ اگر وہ حکومت پر بوجھ بننے کے امکانات رکھتے ہیں تو انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ ویزا افسران اس بات کی تصدیق کریں کہ آیا درخواست دہندہ امریکی حکومت کی مالی مدد کے بغیر اپنا علاج خود برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔