شمالی کوریا نے امریکی پابندیوں کا جواب دینے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا نے امریکا کی کی جانب سے عائد کی گئیں پابندیوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے جواب دینے کا اعلان کر دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق شمالی کوریا نے ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی پابندیاں عائد کر رہی ہے جو اسے اشتعال دلاتی ہیں ۔امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز شمالی کوریا کے 8 افراد اور 2 اداروں پر پابندیاں عائد کیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ سائبر سے متعلق مختلف منی لانڈرنگ اسکیموں میں ملوث تھے۔ امریکی اقدام شمالی کوریا میں ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے فنڈنگ روکنے کا حصہ ہے۔شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے سی این اے کی جانب سے بیان میں ملک کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے پرانے اور ناکام اسکرپٹ سے نئے نتیجے کی توقع کرنا بے وقوفی ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ جتنی بھی پابندیاں عائد کرے وہ اس سے فائدہ حاصل نہیں کر سکے گا، ٹرمپ انتظامیہ نے ہمارے ساتھ اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا ہے ہم بھی صبر کریں گے اور اسی طرح کا جواب دیں گے۔واضح رہے کہ جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے رواں ہفتے کہا تھا کہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان اگلے سال کے شروع میں سربراہ اجلاس منعقد ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایشیا کے دورے کے دوران شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی بار بار اپیل کی تھی اور مستقبل میں ملاقات کے لیے دروازہ کھلا چھوڑا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز