Jasarat News:
2026-06-03@02:27:48 GMT

امریکا میں تاریخ رقم؛ پہلا مسلم میئر منتخب

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251107-03-3

 

میر بابر مشتاق

نیویارک کی سیاسی تاریخ میں ۴ نومبر ۲۰۲۵ ایک یادگار دن بن گیا۔ دنیا کے اس سب سے متنوع شہر نے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جو صرف سیاست دان نہیں بلکہ ایک نظریہ اور تحریک کی نمائندگی کرتا ہے۔ زہران ممدانی، ایک مسلم، جنوبی ایشیائی نژاد، اصلاح پسند رہنما، جو اب نیویارک شہر کے ۱۱۱ ویں میئر بن چکے ہیں۔ انتخابات میں دو ملین سے زائد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جو ۲۰۰۱ کے بعد سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کے بدلتے رجحان کا ثبوت ہے۔ لوگ اب نسلی یا جماعتی سیاست سے ہٹ کر عوامی فلاح اور سماجی انصاف کی بنیاد پر ووٹ دینے لگے ہیں۔ پولنگ اسٹیشنوں پر نوجوانوں، مزدور طبقے اور اقلیتوں کی غیر معمولی شرکت نے ایک نئے سیاسی رجحان کو جنم دیا۔ نیویارک کے گلی کوچوں سے ایک ہی صدا بلند ہو رہی تھی: ’’ہمیں وہ قیادت چاہیے جو کرائے کم کرے، انصاف مہیا کرے، اور شہر کو صرف امیروں کا نہیں، سب کا بنائے‘‘۔

ممدانی کا مقابلہ سابق گورنر اینڈریو کومو اور ری پبلکن امیدوار کرٹس سلیوا سے تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ، ایلون مسک اور دیگر ارب پتی سرمایہ کاروں نے کومو کی حمایت کی، مگر اس انتخاب نے ایک بات ثابت کر دی: عوامی طاقت، سرمایہ دارانہ اثر سے بڑی ہے۔ ٹرمپ کی حمایت، میڈیا پر اشتہارات اور سرمایہ دار طبقے کی بھرپور پشت پناہی کے باوجود عوام نے فیصلہ اس طبقے کے حق میں کیا جو برسوں سے دباؤ میں تھا۔ ورکنگ کلاس۔ ممدانی کا ایجنڈا ’’عوام کے لیے شہر‘‘ زہران ممدانی کا منشور سادہ مگر انقلابی تھا۔ گھروں اور دفاتر کے کرائے منجمد کیے جائیں۔ مفت پبلک ٹرانسپورٹ کا آغاز کیا جائے۔ یونیورسل چائلڈ کیئر فراہم کی جائے۔ مڈل کلاس اور لوئر کلاس کے مسائل کو ترجیح دی جائے، یہ وہ نکات تھے جنہیں نیویارک کے عام شہریوں نے اپنی زندگی سے جڑا پایا۔

ممدانی نے انتخابی مہم میں نعرے نہیں، حل اور پالیسی دی۔ ان کا مؤقف تھا: ’’جب شہر کی ترقی کا بوجھ صرف غریب اٹھاتا ہے، تو وہ ترقی نہیں، استحصال کہلاتا ہے‘‘۔ زہران نے نیویارک کی کوئینز یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور نوجوانی میں ہی سماجی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئے۔ انہیں نیویارک کے شہری مسائل کا براہِ راست تجربہ ہے۔ وہ خود کرائے کے فلیٹ میں پلے بڑھے، اور یہی تجربہ ان کے سیاسی وژن کی بنیاد بنا۔ زہران ممدانی کی کامیابی امریکی تاریخ میں ایک نیا باب ہے۔ امریکا میں اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور تعصبات کے دور میں، نیویارک جیسے شہر کا ایک مسلمان، جنوبی ایشیائی نژاد شخص کو منتخب کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ جمہوریت اب شناخت سے زیادہ کارکردگی پر یقین رکھتی ہے۔ دنیا بھر کے مسلم حلقوں نے اس کامیابی پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔

عالمی تجزیہ نگاروں نے کہا کہ: ’’یہ انتخابی جیت صرف نیویارک کی نہیں، پوری مسلم دنیا کی اخلاقی فتح ہے‘‘۔ ممدانی نے اپنی مہم کے دوران فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے کہا تھا: ’’اگر عالمی عدالت ِ انصاف کے وارنٹ کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئے، تو میں قانون کے مطابق انہیں گرفتار کراؤں گا‘‘۔ یہ بیان امریکی مین اسٹریم سیاست کے لیے غیرمعمولی تھا۔ لیکن ممدانی نے دکھا دیا کہ انصاف پسندی، اخلاقی جرأت اور سچ بولنے کا حوصلہ بھی سیاست کا حصہ ہو سکتا ہے۔

CNN, The New York Times اور Politico نے ممدانی کی کامیابی کو “Progressive Revolution in Urban Politics” قرار دیا۔ امریکی میڈیا نے تسلیم کیا کہ ممدانی نے نیویارک کے عوام کے ذہنوں میں ایک نیا فریم ورک بنا دیا ہے —”City for People, Not for Profit”۔ کچھ دائیں بازو کے تبصرہ نگاروں نے انہیں “Left Populist” اور “Idealist” کہا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ممدانی نے صرف خواب نہیں دکھائے بلکہ ان کے لیے پالیسی روڈ میپ بھی پیش کیا۔ اب جبکہ نیویارک کا انتظام سنبھالنا ممدانی کی ذمے داری ہے، انہیں شدید عملی مشکلات کا سامنا ہوگا: مالی وسائل کی کمی۔ ریاستی قوانین کی رکاوٹیں۔ رئیل اسٹیٹ لابی کا دباؤ۔ وفاقی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کے چیلنجز۔ ان چیلنجز کے باوجود ممدانی کی اخلاقی برتری اور عوامی مقبولیت انہیں ایک مضبوط پوزیشن میں رکھتی ہے۔

ان کے لیے اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ تحریک کو پالیسی میں کیسے ڈھالتے ہیں۔ زہران ممدانی کی کامیابی صرف امریکی سیاست نہیں، بلکہ عالمی بیانیے کی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ کامیابی بتاتی ہے کہ دنیا کی طاقتور معیشتوں میں بھی سماجی انصاف اور عوامی فلاح کی سیاست جگہ بنا سکتی ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، اور فرانس میں بھی مسلم نژاد امیدواروں کی مہم کو نئی توانائی ملی ہے۔ امریکا کے اندر بھی یہ نتیجہ بتا رہا ہے کہ ریاستی اشرافیہ کے خلاف عوامی مزاحمت اب محض نعرہ نہیں، ایک حقیقت ہے۔

زہران ممدانی کی کامیابی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب مسلمان معاشروں میں تعلیم، سماجی خدمت، اور فکری خوداعتمادی کو بنیاد بنایا جائے تو وہ دنیا کے کسی بھی سیاسی نظام میں عزت، اثر اور قیادت حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ جیت امت کے نوجوانوں کے لیے پیغام ہے: ’’تبدیلی کا انتظار مت کرو۔ خود وہ تبدیلی بنو جس کی تمہیں ضرورت ہے‘‘۔ زہران ممدانی کا یہ جملہ اب عالمی سطح پر مقبول ہو چکا ہے: ’’ہم شہر کو دوبارہ انسانی ہاتھوں میں لوٹا رہے ہیں، طاقت کے ایوانوں سے عوام کے دلوں تک‘‘۔ یہی وہ فلسفہ ہے جو نیویارک کی گلیوں سے اْٹھ کر دنیا بھر کے شہریوں کے ضمیر میں گونج رہا ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب امریکی خواب ایک نئے مفہوم میں زندہ ہوا۔ انصاف، برابری اور انسانی وقار کے خواب کے طور پر۔

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ممدانی کی کامیابی نیویارک کے نیویارک کی ممدانی کا عوام کے کے لیے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟