اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف نے جد و جہد آزادی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہزاروں کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے 8 دہائیوں سے تمام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف اپنی افواج کے ذریعہ کشمیریوں پر غیر قانونی تسلط  قائم کر رکھا ہے۔ کشمیری عوام بھارتی ظلم و جبر کے سامنے سرنگوں نہیں ہوئے۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ یوم شہدائے جموں پر وزیراعظم نے کہا کہ 6 نومبر 1947ء جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جو کشمیریوں کے ذہن پر آج  تقریبا 8 دہائیوں کے بعد بھی تازہ زخم کی طرح نقش ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں موجود کشمیری اس دن کو بھارتی فوج کی کشمیریوں کی پہلی نسل کشی کی مذمت کے طور پر مناتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو مصنوعی طریقہ سے بدلنے کے غیر قانونی حربے آج بھی جاری ہیں، 5 اگست 2019ء کو اٹھائے گئے اقدامات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ پاکستان آزادی کی اس طویل جد و جہد میں کشمیریوں کی طرف سے جد وجہد آزادی میں قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے بالخصوص نومبر 1947ء میں ہزاروں کشمیریوں کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ بھارت بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے منافی اپنی مسلح افواج کے ذریعہ کشمیریوں پر اپنے غیر قانونی تسلط اور ناجائز قبضہ کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اور انسانی حقوق کے تمام علمبردار اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ بھارت کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق، حق خود ارادیت اور عالمی قوانین کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔ آج کا دن کشمیریوں کی لازوال بہادری اور جد وجہد آزادی کے لئے ان کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔ صدر مملکت زرداری نے اور ہم ان کے انصاف، وقار اور آزادی کی جد وجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جموں کے قتل عام کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کریں اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوششوں سمیت بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ بابا گرو نانک کے 556 ویں جنم دن پر صدرِ نے  سکھ برادری کو دلی مبارکباد دی، صدرِ نے کہا کہ بابا گرو نانک دیو جی امن، رواداری اور مساوات کے پیامبر تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بین الاقوامی کشمیریوں کی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار