ہمارے ایٹمی ہتھیار پوری دنیا کو 150 مرتبہ تباہ کر سکتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، جنہیں کسی کو بتائے بغیر انجام دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان، شمالی کوریا، روس اور چین ایٹمی تجربات کر رہے ہیں اور یہ تجربات زمین میں بہت گہرائی میں ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں صرف ہلکی سی لرزش محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس اتنے ایٹمی ہتھیار ہیں کہ وہ پوری دنیا کو 150 مرتبہ تباہ کر سکتا ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ امریکا کبھی ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرنا چاہتا، لیکن وہ ایٹمی تجربات کر کے اپنے ہتھیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب چین نے امریکی صدر کے اس بیان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ایک ذمہ دار ایٹمی ملک کی حیثیت سے چین کی ایٹمی حکمت عملی صرف دفاعی نوعیت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔