امریکا: بین البراعظمی ’منٹ مین تھری‘ میزائل کا کامیاب تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تین دہائیوں بعد جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے حکم کے فوراً بعد امریکا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل’منٹ مین تھری‘کا کامیاب تجربہ کر لیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ تجربہ بدھ کی صبح کیلیفورنیا کے ’وینڈن برگ اسپیس فورس بیس‘ سے کیا گیا۔
امریکی ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ نے تصدیق کی کہ میزائل نے تقریباً 4,200 میل کا فاصلہ طے کیا اور ’مارشل جزائر‘ میں واقع ‘رونالڈ ریگن بیلسٹک میزائل ڈیفنس ٹیسٹ سائٹ’ پر اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
یہ تجربہ ‘GT 254’ کے نام سے امریکا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام کی تیاری اور درستگی جانچنے کے معمول کے پروگرام کا حصہ بتایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ میزائل غیر مسلح تھا اور اس میں ‘ٹیسٹ ری انٹری وہیکل’ نصب تھا تاکہ پرواز کے دوران تکنیکی ڈیٹا جمع کیا جا سکے۔
امریکی دفاعی ذرائع کے مطابق ‘منٹ مین تھری’ امریکا کے جوہری دفاعی نظام کا ایک کلیدی حصہ ہے، جو صرف اس صورت میں استعمال کیا جائے گا جب ملک پر کسی دشمن ریاست کی جانب سے جوہری حملہ کیا جائے۔
اگرچہ یہ تجربہ طے شدہ پروگرام کا حصہ تھا، لیکن صدر ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے بعد اس نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو ہدایت دی تھی کہ امریکا کو ‘تین دہائیوں بعد ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ’ دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے محکمہ دفاع کو ایٹمی ہتھیاروں کی فوری ٹیسٹنگ کا حکم دیا ہے تاکہ امریکا دوسرے ممالک کے مساوی سطح پر اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھ سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.ذریعہ: WE News
پڑھیں:
چین کی برآمدات میں بڑا اضافہ‘ امریکی برآمدات میں 29 فیصد کمی
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-06-12
بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کی برآمدات تیزی بڑھنے لگیں اور تجارتی خسارہ کم ہونا شروع ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق چینی برآمدات میں نومبر میں 5.9 فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ امریکی برآمدات میں 29 فی صد کمی ہوئی ہے۔چین کی مجموعی برآمدات نومبر میں توقعات سے زیادہ 330.3 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، اکتوبر میں 1.1 فی صد کمی کے بعد چینی برآمدات میں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چین کی سالانہ تجارت خسارہ نہیں بلکہ 1.08 ٹریلین ڈالر سرپلس تک پہنچ گئی ہے۔ چین کی برآمدات جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکا، افریقا اور یورپی یونین میں بڑھی ہیں،جو نومبر میں 1.9 فی صد بڑھ کر 218.6 ارب ڈالر رہیں۔ ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں چین رواں سال تقریباً 5 فی صد ترقی کا ہدف پورا کر لے گا۔ ماہر معیشت مورگن اسٹینلے کا کہنا ہے کہ 2030 ء تک چین کا بین الاقوامی برآمدات میں حصہ 16.5 فی صد تک پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکا کی برآمدات آٹھویں ماہ بھی مسلسل 2 ہندسوں کی کمی کے ساتھ گر رہی ہے۔ پیر کو جاری ہونے والے کسٹمز کے اعداد و شمار نے یہ بھی ظاہر کیا کہ امریکا کو بھیجی جانے والی ترسیل میں سال بہ سال تقریباً 29 فی صد کمی واقع ہوئی۔ لیکن جیسے جیسے امریکا کے ساتھ تجارت کمزور پڑ رہی ہے، چین جنوب مشرقی ایشیا، افریقا، یورپ اور لاطینی امریکا میں اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنا رہا ہے۔