صدر نکولاس مادورو کے دن گنے جاچکے ہیں‘ ٹرمپ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-06-11
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے اشارہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ نکولاس مادورو کے بطور صدر دن گنے جا چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک جانب وینزویلا میں جنگ کی باتوں کو مسترد کیا، تو دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو سخت الفاظ میں خبردار کیا۔ انٹرویو کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا وینزویلا کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کا یقین نہیں ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکا مبینہ طور پر نارکو ٹیررازم کے خلاف کارروائی کے طور پر وینزویلا کے فوجی ٹھکانوں پر ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ٹرمپ نے اس امکان کی تردید نہیں کی بلکہ محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ میں نہیں کہوں گا کہ میں ایسا کرنے والا ہوں، لیکن یہ بھی نہیں بتاؤں گا کہ وینزویلا کے ساتھ میرا اگلا قدم کیا ہوگا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے کیریبین میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں امریکی افواج نے مبینہ منشیات بردار جہازوں پر مختلف حملے کیے۔ دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولاس مادوروکا کہنا ہے کہ امریکا حکومت کی تبدیلی کے بہانے وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکی فوج نے حالیہ ہفتوں میں کیریبین اور پیسفک میں کم از کم درجن سے زائد حملے کیے جن میں 65 افراد ہلاک ہوئے۔ ان کارروائیوں پر خطے کے کئی ممالک نے شدید تنقید کی ہے۔امریکی حکومت نے اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ حملوں میں نشانہ بننے والے افراد واقعی منشیات اسمگل کر رہے تھے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔