data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  وینزویلا میں ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے متضاد اشارے دیتے ہوئے خبردار کیا کہ نکولس مادورو  کے بطور صدر دن گنے جا چکے ہیں۔

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے  ایک جانب  وینزویلا میں جنگ کی باتوں کو مسترد کیا، تو دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو سخت الفاظ میں خبردار کیا۔

جب انٹرویو کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا وینزویلا کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ ‘مجھے شک ہے، میرا نہیں خیال’۔

البتہ جب سوال کیا گیا کہ کیا مادورو کے بطور وینزویلا کے صدر دن گنے جا چکے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا ‘میں کہوں گا ہاں، میرا یہی خیال ہے’۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا مبینہ طور پر “نارکو ٹیررازم” کے خلاف کارروائی کے طور پر وینزویلا کے فوجی ٹھکانوں پر ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

تاہم، ٹرمپ نے اس امکان کی تردید نہیں کی بلکہ محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ‘میں نہیں کہوں گا کہ میں ایسا کرنے والا ہوں، لیکن یہ بھی نہیں بتاؤں گا کہ وینزویلا کے ساتھ میرا اگلا قدم کیا ہوگا’۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے کیریبین میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں امریکی افواج نے مبینہ منشیات بردار جہازوں پر متعدد حملے کیے۔

دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو، جن پر امریکا نے منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کر رکھے ہیں، کا کہنا ہے کہ امریکا حکومت کی تبدیلی کے بہانے وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے حالیہ ہفتوں میں کیریبین اور پیسفک میں کم از کم درجن سے زائد حملے کیے جن میں 65 افراد ہلاک ہوئے۔ ان کارروائیوں پر خطے کے کئی ممالک نے شدید تنقید کی ہے۔

امریکی حکومت نے اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ حملوں میں نشانہ بننے والے افراد واقعی منشیات اسمگل کر رہے تھے یا امریکی سلامتی کے لیے خطرہ تھے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار