نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا نے اپنے ہی ملک پر امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
نوبل امن انعام یافتہ اور وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماشاڈو نے کہا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی وینزویلا کے ساحل پر صدر نیکولس مادورو کو ہٹانے کا واحد طریقہ ہو سکتی ہے۔
ماشاڈو کے مطابق مادورو غیر قانونی صدر ہیں اور امریکی اقدامات کو وہ وینزویلا کے عوام کی مرضی کے نفاذ کے طور پر دیکھتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کیریبیئن میں ایک بحری بیڑا تعینات کیا اور ستمبر سے امریکی فورسز نے وینزویلا کے ساحل پر مبینہ منشیات اسمگلنگ کے جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
مزید پڑھیں: امن نوبیل انعام 2025: صدر ٹرمپ پر سبقت پانے والی ماریا کورینا کون ہیں؟
واشنگٹن مادورو پر منشیات کے کارٹیلز سے تعلقات کا الزام لگاتا ہے اور انہیں نارکو ٹیررسٹ کہتا ہے۔
مارشاڈو نے بلومبرگ کے پروگرام میں کہا کہ امریکی فوجی دباؤ مادورو کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی بھی جائز ہو سکتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن اور فوجی و پولیس کے اہلکار اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہیں اور 80 فیصد سے زیادہ شامل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: نوبیل امن انعام پانے والی ماریا کورینا اسرائیل کی طرف دار نکلیں، بین الاقوامی تنقید کا سامنا
مادورو نے امریکی الزامات اور اپوزیشن کے دعوے مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن پر وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور بغاوت کی کوشش کا الزام لگایا ہے اور روس، چین اور ایران سے فوجی مدد طلب کی ہے۔
روس نے بھی امریکی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور وینزویلا کے ساتھ اپنے سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کا حوالہ دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی فوجی کارروائی ماریا کورینا نوبل امن انعام یافتہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی فوجی کارروائی ماریا کورینا نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا وینزویلا کے امریکی فوجی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔