برطانوی حکومت کا معزول شہزادہ اینڈریو سے آخری فوجی عہدہ واپس لینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
برطانوی حکومت نے سابق شہزادہ اینڈریو سے ان کا اعزازی فوجی عہدہ وائس ایڈمرل واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ ان کا آخری باقی رہ جانے والا فوجی ٹائٹل تھا۔
یہ بھی پڑھیں:جنسی اسکینڈل: برطانوی پرنس اینڈریو سے ’پرنس‘ کا لقب سمیت تمام شاہی اعزازت واپس لے لیے گئے
اینڈریو سے ان کی والدہ، مرحومہ ملکہ الزبتھ دوم، نے 2022 میں ان کے تمام اعزازی فوجی عہدے واپس لے لیے تھے، جب ان کے خلاف ورجینیا جیفری، امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کیس کی مرکزی مدعیہ، نے مقدمہ دائر کیا تھا۔
What Andrew losing his last military title would mean https://t.
— The i Paper (@theipaper) November 3, 2025
تازہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب بادشاہ چارلس سوم نے جمعرات کے روز اپنے چھوٹے بھائی سے باقی تمام شاہی القابات اور اعزازات بھی واپس لے لیے، کیونکہ برطانیہ میں جیفری ایپسٹین سے اینڈریو کے تعلقات پر عوامی غصہ بڑھ رہا ہے۔
وزیر دفاع جان ہیلی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ اینڈریو نے اپنی تمام اعزازی فوجی ذمہ داریاں چھوڑ دی ہیں۔
’بادشاہ کی ہدایت پر اب ہم ان کا آخری خطاب وائس ایڈمرل بھی واپس لینے کے عمل میں ہیں۔‘
مزید پڑھیں: برطانوی شہزادہ اینڈریو سے کن سنگین الزامات کے بعد شاہی خطاب اور عہدے واپس لیے گئے؟
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بادشاہ چارلس سے رہنمائی لے گی کہ آیا اینڈریو سے ان کے فوجی تمغے بھی واپس لیے جائیں۔
بادشاہ کا یہ چھوٹا بھائی کبھی 1982 کی فاک لینڈ جنگ میں شاہی بحریہ کے ہیلی کاپٹر پائلٹ کے طور پر اپنی خدمات کے باعث سراہا جاتا تھا۔ وہ 22 سالہ سروس کے بعد 2001 میں ریٹائر ہوئے۔
اینڈریو نے ہمیشہ ورجینیا جیفری پر جنسی زیادتی کے الزامات کی تردید کی ہے۔
جیفری نے اکتوبر میں شائع ہونے والی اپنی یادداشت میں دعویٰ کیا تھا کہ اسے اینڈریو کے ساتھ 3 مواقع پر جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا گیا، جن میں سے 2 بار وہ صرف 17 سال کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعزازی بادشاہ چارلس سوم جیفری ایپسٹین فاک لینڈ جنگ فوجی ذمہ داریاں وائس ایڈمرل ورجینیا جیفری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بادشاہ چارلس سوم جیفری ایپسٹین فاک لینڈ جنگ فوجی ذمہ داریاں وائس ایڈمرل ورجینیا جیفری اینڈریو سے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔