امریکا کو کرپٹو کا چیمپئن بنانا چاہتا ہوں: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو کرپٹو کرنسی کا چیمپئن بنانے کے خواہش مند نکلے۔
ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کرپٹو آج دنیا کی سب سے بڑی صنعت بن چکی ہے اور امریکا اس وقت اس شعبے میں چین سمیت تمام ملکوں سے بہت آگے ہے اور چاہتا ہوں امریکا کرپٹو کرنسی میں چیمپئن بنے۔
امریکی صدر کہنا تھا کہ چین اب تیزی سے کرپٹو کے میدان میں داخل ہو رہا ہے لیکن میں نہیں چاہتا کہ چین اس شعبے میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دے۔
ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن نے ابتدا میں کرپٹو کی مخالفت کی لیکن جب دیکھا کہ کرپٹو ووٹرز ٹرمپ کے ساتھ ہیں تو انہوں نے صرف ووٹ لینے کے لیے مؤقف بدل لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔