Express News:
2026-07-24@02:45:18 GMT

پاک افغان کشیدگی اور ٹرمپ کا کردار

اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے، جنگ بندی جاری رکھنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے استنبول میں قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سردست اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی جاری رکھیں گے۔ چھے روزہ مذاکرات کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، اس کے مطابق 25 سے 30 اکتوبر تک پاک افغان مذاکرات کا اول مقصد دوحہ قطر میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی معاہدے کو مزید مستحکم بنانا تھا۔

استنبول اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا مشترکہ نظام تشکیل دیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے ملک پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ جنگ بندی کے قواعد و ضوابط طے کرنے اور دو طرفہ امن کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور 6 نومبر سے استنبول میں ہوگا جس میں معاملات کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔

افغان طالبان کے ساتھ دوحہ قطر سے استنبول ترکیہ تک ہونے والے دو مذاکراتی دورکے بعد بھی معاملات کا طے نہ پانا، اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ افغان طالبان دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے جائز مطالبات پر بالخصوص کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف موثر، ٹھوس اور عملی اقدام کے حوالے سے پوری طرح سنجیدہ نہیں ہیں۔

پاکستان کی جانب سے دو ٹوک لفظوں میں افغان حکومت پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کی گئی تو پاکستان کسی صورت برداشت نہیں کرے گا اور اپنی سلامتی و دفاع کو یقینی بنانے کے لیے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

باخبر اطلاعات کے مطابق پاک افغان مذاکرات کے دوران اگرچہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے واضح موقف اختیار کیا جب کہ افغان مذاکرات کار اپنے رویوں، لہجے اور موقف میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے مذاکراتی عمل کے دوران ٹھوس بات کرنے سے گریزاں نظر آئے جس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ افغان طالبان معاہدہ کرنے کے باوجود اس کی تمام شقوں پر کماحقہ عمل درآمد کرانے میں سنجیدہ نہیں ہیں جس کا اندازہ طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے اس بیان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جس میں انھوں نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے اپنے اندرونی سیکیورٹی مسائل کو حل کرے۔ افغان سفیر نے بھی ایک غیر سنجیدہ بیان دے کر سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی جس پر پاکستان نے احتجاج کیا جو ناقابل فہم نہیں۔

6 نومبر کو استنبول میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ البتہ مذاکرات کے باوجود جنگ بندی تو ہو گئی لیکن پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ نہ رک سکا۔ چار روز پیشتر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے اہم کمانڈر سمیت 24 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بڑی وضاحت کے ساتھ ایک مرتبہ پھر یہ کہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عسکری قیادت کا یہ دو ٹوک اعلان ہے کہ ملک کے دونوں اہم صوبوں کے پی کے اور بلوچستان میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہندوستان (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرکے دونوں صوبوں کو دہشت گردی سے پاک کیا جائے گا۔

وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کے پی کے عوام کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور صوبے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے میں سب کو ساتھ لے کر چلوں گا۔ افغان طالبان کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بھارتی پشت پناہی میں اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا کر خود اپنی راہ میں مشکلات کھڑی کر رہا ہے بعینہ خطے کے امن کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے، قطر اور ترکیہ کی ثالثی قابل تعریف لیکن خطے کے امن کے لیے چین، ایران، روس اور امریکا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی میں جو کردار ادا کیا پاکستان اور دنیا اس کی معترف ہے۔ ٹرمپ کو پاک افغان جنگ بندی میں بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغان مذاکرات افغان طالبان دہشت گردی کے مذاکرات کے مذاکرات کا ہونے والے پاک افغان کہ افغان جائے گا کے خلاف گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار