حلقہ خواتین کی جانب سے اجتماعِ عام کی تیاریوں میں تیزی
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کے تحت ہونے والے اجتماعِ عام کی تیاریاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں جامعۃ المحصنات کی پرنسپل رابعہ خبیب، بیٹھک اسکول کی مرکزی رکن ہما کلیم اور نگرانِ اجتماعِ عام بیٹھک اسکول فائزہ صدیقی نے ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی جاوداں فہیم سے ملاقات کی۔اس موقع پر نائب ناظمہ کراچی فرح عمران، شیبا طاہر، ہاجرہ عرفان، سمیہ عاصم، سمیعہ اسلم اور رکن مرکزی شوریٰ اسما سفیر بھی موجود تھیں۔ ملاقات کے دوران اجتماعِ عام سے متعلق انتظامات، رضاکار ٹیموں کی تیاریوں اور ادارہ جاتی شرکت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں اداروں کی ذمے داران نے اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کرتے ہوئے تیاریوں کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔پرنسپل رابعہ خبیب نے کہا کہ جامعۃ المحصنات کی طالبات اجتماعِ عام میں اپنی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے انجام دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبات اور اساتذہ دونوں اس اجتماع کو تاریخی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور ان میں غیر معمولی جذبہ و ولولہ پایا جاتا ہے۔بیٹھک اسکول کی نگرانِ اجتماعِ عام فائزہ صدیقی نے کہا کہ اسکول کے طلبہ و طالبات اجتماعِ عام میں شرکت کے لیے پُرجوش ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام اساتذہ، خصوصاً خواتین معلمات‘‘بدل دو نظام’’کے پیغام کو عام کرنے میں سرگرم ہیں۔بیٹھک اسکول کی ٹیم عزم، حوصلے اور نظم و ضبط کے ساتھ اجتماعِ عام کی کامیابی کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔ناظمہ حلقہ خواتین کراچی جاوداں فہیم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعِ عام خواتین کی فکری، دعوتی اور تنظیمی جدوجہد میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اجتماعی محنت ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔جاوداں فہیم نے کہا کہ اجتماعِ عام کارکنان کے اندر ایک نیا جوش، جذبہ اور عزمِ نو پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس فرسودہ اور گلے سڑے نظام کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے۔انہوں نے کہاکہ کرپشن سے پاک پاکستان کے قیام کے لیے پڑھی لکھی خواتین کو یکسوئی کے ساتھ جدوجہد تیز کرنی ہوگی۔جاوداں فہیم نے تمام خواتین سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہم ملک کی ہر عورت کو اجتماعِ عام میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ آئیے، ہماری اجتماعیت، نظم اور عزم کو قریب سے دیکھیں اور اس تحریک اصلاحِ معاشرہ کا حصہ بنیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جاوداں فہیم حلقہ خواتین کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔