کورونا ویکسینز کا کینسر کے علاج میں مددگار ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
امریکی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے استعمال ہونے والی ایم آر این اے (mRNA) ویکسینز کینسر کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق کورونا کی ایم آر این اے ویکسینز کینسر کی بیماری کو کم یا ختم نہیں کرتی بلکہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر اسے ٹیومر اور کینسر سے لڑنے کے لیے طاقت فراہم کرتی ہے۔
محققین کے مطابق یہ ویکسینز مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر جدید کینسر علاج کو مزید مؤثر بنا دیتی ہیں، جس سے مریضوں کی زندگی کی مدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حال ہی میں شائع تحقیق کے مطابق کورونا سے بچاؤ کی ویکسینز مدافعتی نظام کو پورے جسم میں متحرک کر دیتی ہیں، جیسے ایک الارم بج رہا ہو، جس سے مدافعتی نظام متحرک ہوکر ٹیومرز کے خلاف موثر کردار ادا کرنے لگتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ کورونا ویکسین لگوانے والے کینسر کے مریضوں کا لمبے عرصے تک زندہ رہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، خصوصی طور پر اعلیٰ درجے کے پھیپھڑوں یا جلد کے کینسر (میلانوما) کے مریضوں کو اس سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق کینسر کے مریض اگر علاج کے ابتدائی 100 دنوں کے اندر ایم آر این اے ٹیکنالوجی کی کورونا ویکسینز یعن فائزر اور ماڈرنا کی ویکسینز لگوائیں گے تو ان کے تین سال بعد زندہ رہنے کا امکان تقریبا دگنا ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ کورونا ویکسینز کا کینسر کے وائرس یا انفیکشن کی روک تھام سے نہیں بلکہ ویکسین کی ایم آر این اے ٹیکنالوجی سے جڑا ہے، جو مدافعتی خلیات کو متحرک کر دیتی ہے اور کینسر خلیات پر حملہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔
تحقیق کے دوران پایا گیا کہ کورونا ویکسینز کینسر کے مخصوص خلیات کو ہدف بنانے کے بجائے مدافعتی نظام کو عام طور پر متحرک کر کے ٹیومرز کو کمزور کر دیتی ہیں۔
ایم آر این اے ویکسین ٹیکنالوجی قدرتی طور پر ہر خلیے میں پائی جاتی ہے اور یہ مدافعتی نظام کو پروٹینز بنانے کی ہدایات دیتی ہے، یہ ٹیکنالوجی کورونا ویکسینز کی وجہ سے مشہور ہوئی اور اسی ٹیکنالوجی کو دریافت کرنے والے محقیقن کو 2021 میں نوبیل انعام بھی ملا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مدافعتی نظام کو کورونا ویکسینز ویکسینز کی کہ کورونا کینسر کے تحقیق کے کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
— تصویر بشکریہ سوشل میڈیاکراچی کے علاقے اولڈ سٹی ایریا لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران 2 قدیم طرز کے مجسمے برآمد ہوئے ہیں، ملنے والی اشیاء کی ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے جانچ کرائی جائے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ برآمد ہونے والے مجسموں کی عمر اور تاریخی اہمیت کا تعین ماہرین کریں گے، تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے برآمد اشیاء کی مکمل دستاویزات اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔
پاکستان اور فرانس کے درمیان آثار قدیمہ کے میدان میں تعاون ایک نئے سنگِ میل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سائنسی تعاون کے اتاشی نے کراچی میں انڈس بیسن (MAFBI) میں فرانسیسی مشن کے سربراہ ڈاکٹر اورور ڈیڈیئر سے ملاقات کی اور سندھ میں 2025 کے مشترکہ فیلڈ ورک سیزن کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران دریافت ہونے والی اشیاء کو محفوظ کر لیا گیا ہے، کے ایم سی شہر کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا ہے کہ لی مارکیٹ سے ملنے والی اشیاء کا سائنسی معائنہ کرایا جائے گا، تاریخی نوعیت کی دریافت پر مزید کھدائی احتیاط سے کی جا رہی ہے۔