ڈاکوؤں کیلئے پالیسی واضح، عام معافی نہیں، مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا، ضیا الحسن لنجار
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گھوٹکی میں قبائلی تنازعات ختم کرانے کے لیے سرداروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جو ڈاکو سرینڈر نہیں کریں گے ان کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ حکومت کی ڈاکوؤں کے سرینڈر پالیسی بالکل واضح ہے، یہ عام معافی نہیں، مقدمات میں عدالتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن نے کہا کہ گھوٹکی میں قبائلی تنازعات ختم کرانے کے لیے سرداروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جو ڈاکو سرینڈر نہیں کریں گے ان کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شکارپور، کشمور اور کندھکوٹ میں آپریشن جاری ہے، گھوٹکی میں بھی بڑے پیمانے پر آپریشن کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ کچے کی زمین کسی کمپنی یا فرد کو نہیں دی جائے گی، یہ جنگلات کے محکمے اور مقامی رہائشیوں کی ملکیت ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ شہید صحافی جان محمد مہر کا مرکزی قاتل مارا جا چکا ہے، نصراللہ گڈاڻي کے ملزمان عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ضیا لنجار نے سندھ بار کونسل کے انتخابات میں پروگریسو پینل کے امیدواروں کی حمایت کرتے ہوئے وکلا سے زیادہ سے زیادہ ووٹ دینے کی اپیل کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن نے کہا کہ
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔